پنجاب بھر میں وثیقہ نویسی کے روایتی نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے حکومت نے اراضی معاون نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 12 اکتوبر 2026 سے صرف رجسٹرڈ اراضی معاون ہی اراضی سے متعلق وثیقہ جات تیار کرنے کے مجاز ہوں گے نئے نظام کے نفاذ کے بعد مقررہ تاریخ سے رجسٹرڈ اراضی معاون نہ ہونے والے افراد وثیقہ نویسی کے اہل نہیں ہوں گے۔
حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت موجودہ وثیقہ نویسوں کو اراضی معاون کے طور پر رجسٹریشن کرانے کی سہولت فراہم کردی گئی ہے اس مقصد کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے اراضی معاون بننے کے خواہش مند افراد متعلقہ ویب سائٹ پر اپنی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اراضی معاون نظام کے تحت مختلف ماہانہ سبسکرپشن پیکجز بھی متعارف کرائے گئے ہیں ان پیکجز کے ذریعے رجسٹرڈ افراد نئے نظام کے تحت اپنی خدمات انجام دے سکیں گے تاہم دستیاب معلومات میں مختلف پیکجز کی فیس اور ان سے منسلک سہولیات کی مکمل تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
نئے نظام کے تحت وثیقہ نویسی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے رجسٹریشن بنیادی شرط ہوگی 12 اکتوبر کے بعد صرف رجسٹرڈ اراضی معاون ہی متعلقہ دستاویزات تیار کرسکیں گے جبکہ رجسٹریشن نہ کرانے والے افراد اس کام کے مجاز نہیں ہوں گے۔ اس تبدیلی کے باعث موجودہ وثیقہ نویسوں کو نئے طریقہ کار کے مطابق اپنی رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی۔
مزید برآں نئے رجسٹرڈ وثیقہ نویسوں کے لیے جدید بائیومیٹرک مشین کی دستیابی بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دستاویزات کی تیاری اور تصدیق کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔
اراضی سے متعلق دستاویزات کی تیاری اور تصدیق میں بائیومیٹرک نظام کے استعمال سے شناخت کی تصدیق کے عمل کو مزید منظم بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، نئے نظام کے تحت بائیومیٹرک مشینوں کے استعمال رجسٹریشن کی شرائط اور ماہانہ سبسکرپشن پیکجز کی مکمل تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق واضح ہوں گی۔
پنجاب بھر میں 12 اکتوبر 2026 سے اس نظام کے نفاذ کے پیش نظر موجودہ وثیقہ نویسوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ مقررہ تاریخ سے پہلے رجسٹریشن کا عمل مکمل کریں اور نئی شرائط پوری کریں، تاکہ وہ قواعد کے مطابق وثیقہ نویسی کا کام جاری رکھ سکیں۔