خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ضم شدہ اضلاع کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشنز شروع کرنے کی تیاریوں سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبروں کو بے بنیاد اور جعلی قرار دے دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر چند عناصر کی جانب سے یہ خبریں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ضم شدہ اضلاع کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشنز شروع کیے جانے کی تیاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں :خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے لیے تمام تیاریاں مکمل، تقریوں و تبادلوں کے لیے افسران کی فہرستیں بھی تیار
اس حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز (IBOs) زمینی صورتحال اور خطرات کے جائزے کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی معمول کے مطابق ہوتا رہا ہے۔
وضاحت کے مطابق کسی بھی نئے بڑے آپریشن کے آغاز سے متعلق خبریں من گھڑت اور جعلی ہیں،جعلی خبروں کا مقصد بلاوجہ بے چینی پھیلانا اور مقامی آبادی میں تشویش پیدا کرنا ہے۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال سے متعلق ایسی خبروں پر یقین کرنے سے پہلے ان کی تصدیق ضروری ہے تاکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس اور بے چینی پیدا نہ ہو۔


