نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی مختلف شناختی دستاویزات کے اجرا، میعاد اور ڈیلیوری کے دورانیے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
ان دستاویزات میں ب فارم، جووینائل کارڈ، قومی شناختی کارڈ، اسمارٹ شناختی کارڈ، نائیکوپ، پی او سی، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور منسوخی سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔
ہر دستاویز کے اجرا کے لیے الگ شرائط اور مدت مقرر ہے۔ درخواست گزار اپنی ضرورت کے مطابق نارمل، ارجنٹ یا ایگزیکٹو سروس کا انتخاب کرسکتے ہیں۔
ب فارم
ب فارم 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے حصول کے لیے والدین یا قانونی سرپرست درخواست دے سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ب فارم کی میعاد عمر کے مختلف مراحل کے مطابق مقرر ہے۔ اس کے تین مراحل بیان کیے گئے ہیں جن میں پہلے مرحلے کی مدت 3 سال تک، دوسرے کی 10 سال تک اور تیسرے کی 18 سال کی عمر تک ہے۔
نادرا کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق ب فارم نارمل سروس کے تحت 7 دن میں تیار ہوتا ہے۔ ایگزیکٹو سروس کے تحت اس کی تیاری کا دورانیہ ایک دن ہے جبکہ ارجنٹ سروس دستیاب نہیں۔
جووینائل کارڈ
جووینائل کارڈ بھی 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ یہ بچوں کی شناختی دستاویز ہے اور اس کے اجرا کے لیے مقررہ شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جووینائل کارڈ کی میعاد ب فارم کی طرح عمر کے مراحل سے منسلک ہے۔ اس کی ڈیلیوری کے لیے نارمل سروس میں 31 دن، ارجنٹ سروس میں 23 دن اور ایگزیکٹو سروس میں 9 دن مقرر ہیں۔
شناختی کارڈ اور اسمارٹ کارڈ
نادرا کے قومی شناختی کارڈ اور اسمارٹ شناختی کارڈ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے پاکستانی شہریوں کے لیے ہیں۔ ان دونوں دستاویزات کی تیاری کا دورانیہ مختلف ہے۔
رپورٹ کے مطابق عام شناختی کارڈ کی میعاد 10 سال ہے جبکہ 60 سال کی عمر کے بعد شناختی کارڈ تاحیات جاری کیے جانے کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔
سادہ قومی شناختی کارڈ نارمل سروس کے تحت 15 دن، ارجنٹ سروس میں 12 دن اور ایگزیکٹو سروس میں 6 دن میں تیار ہوتا ہے۔
اسمارٹ شناختی کارڈ کی تیاری کے لیے نارمل سروس میں 31 دن، ارجنٹ سروس میں 23 دن اور ایگزیکٹو سروس میں 9 دن مقرر ہیں۔
نائیکوپ
نائیکوپ بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے شناختی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے بیرون ملک رہنے والے پاکستانی اپنی شناخت کا اندراج کراسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نائیکوپ کی میعاد 10 سال ہے۔ اس کی تیاری کا دورانیہ نارمل سروس میں 31 دن، ارجنٹ سروس میں 23 دن اور ایگزیکٹو سروس میں 9 دن ہے۔
نادرا کی سرکاری ویب سائٹ پر نائیکوپ کی فیس اور ڈیلیوری کے دورانیے ملکوں اور مختلف خطوں کے لحاظ سے بھی درج ہیں۔ اس لیے درخواست دیتے وقت متعلقہ خطے کی کیٹیگری دیکھنا ضروری ہے۔
پی او سی
پاکستان اوریجن کارڈ غیر ملکی شہریوں کے لیے ہے جن کا تعلق پاکستانی خاندان یا پس منظر سے ہو۔ اس دستاویز کے ذریعے اہل افراد اپنی پاکستانی اصل سے متعلق شناختی حیثیت حاصل کرسکتے ہیں۔
رپورٹ میں پی او سی کی میعاد 5 سے 7 سال بیان کی گئی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے نارمل سروس میں 31 دن، ارجنٹ سروس میں 23 دن اور ایگزیکٹو سروس میں 9 دن مقرر ہیں۔
پی او سی کی درخواست کے لیے اہلیت اور دیگر شرائط کا اطلاق نادرا کے متعلقہ قواعد کے مطابق ہوتا ہے۔
فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ
فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ خاندان کے اندراج اور خاندانی ریکارڈ کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس دستاویز میں خاندان کے متعلق نادرا کے ریکارڈ کے مطابق معلومات درج ہوتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 18 سال سے زائد عمر کا اہل فرد اپنے خاندان کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ نادرا کی ویب سائٹ پر فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی ایگزیکٹو سروس کے لیے ایک دن کا دورانیہ درج ہے۔
منسوخی سرٹیفکیٹ
منسوخی سرٹیفکیٹ کسی شہری کے انتقال کے بعد اس کی شناختی دستاویز منسوخ کرانے کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے متوفی کے خون کے رشتہ دار کی جانب سے درخواست دی جاسکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ میں اس سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے نارمل سروس کا دورانیہ دو دن بتایا گیا ہے۔ تاہم نادرا کی سرکاری فیس اور ڈیلیوری فہرست میں وفات کی وجہ سے شناختی کارڈ یا ب فارم کی منسوخی کے لیے ایک دن درج ہے۔
درخواست دینے سے پہلے کیا دیکھیں؟
نادرا کی شناختی دستاویزات کی تیاری کا وقت دستاویز کی قسم اور منتخب سروس کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ درخواست گزاروں کو چاہیے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے متعلقہ دستاویز کی فیس، مطلوبہ کاغذات، اہلیت اور ڈیلیوری کا دورانیہ سرکاری ویب سائٹ سے دیکھ لیں۔
سرکاری فہرست کے مطابق عام شناختی کارڈ اور اسمارٹ شناختی کارڈ کے اوقات مختلف ہیں۔ اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نائیکوپ اور پی او سی کی فیس متعلقہ خطے کے مطابق تبدیل ہوسکتی ہے۔