بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو سوموار کی صبح ہزاروں طلباء کی احتجاجی تحریک کے سبب کس طرح سے بنگلہ دیش کے ایوانِ وزیراعظم سے ہیلی کاپٹر کے زریعے سے نکالا گیا۔
سوموارکی صبح 10 بجے، بنگلہ دیشی ایوانِ وزیراعظم گنبھون کے لوگوں نے ایک اور رات خوف اور پریشانی میں گزاری۔ تینوں افواج اور بنگلہ دیش رایفلز کے سربراہ، ڈی جی آر اے بی، ڈی جی ایف آئی، پولیس سربراہ کے ساتھ ایک اہم اجلاس گنبھون کے بڑے ہال میں منعقد ہوئی، اس اجلاس کا بنیادی مقصد شیخ حسینہ کے استعفیٰ کی تحریک کو کسی بھی قیمت پر دبانا تھا، حسینہ واجد کی بہن شیخ ریحانہ بھی اپنی بہن کے ساتھ والی سیٹ پر افسردہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھی تھیں۔ گنبھون میں ایک مختلف قسم کا دن طلوع ہو چکا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں طلباء نے بردارپ کی سڑکوں پر قبضہ کر رکھا تھا ا حالانکہ پولیس اور مسلح جوبو لیگ کے کارکن جنہوں نےطلباء تحریک کی شدید مزاحمت کی تھی گزشتہ روز بھی مشتعل طلباء کے ساتھ جھڑپ میں بہت خون بہایا تھا۔لیکن آج گنبھون تک روڈ مارچ کا فیصلہ کر کے طلباء باہر نکلے تھے اور آج ہزاروں طلباء غاصب حکمران حسینہ کو سینے میں گولی مار کر رخصت کرنا چاہتے تھے۔ لاکھوں طلبہ تیز دھار کی طرح آسمان کیجانب آواز یں بلند کرتے ہوئے گنبون کی طرف بڑھ رہے تھے۔ انہوں نے آج کے دن حسینہ حکومت کو ہٹانے اور ریاست کو درست راہ پر استوار کرنے کے لیے خون دینے کاکا حلف اٹھایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کے احتجاج کے باوجودالیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور
اس روز وزیراعظم حسینہ واجد اجلاس میں آئیں اور آرمی چیف کی طرف غصے سے دیکھا،اس نے دھیرے سے کچھ کہا اور انہوں نے پولیس چیف پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ میں نے فوج کو اتنی سہولتیں دیں، لیکن وہ خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہے۔ آپ کی پولیس بھی کچھ نہیں کر سکتی۔ میری چھاتر لیگ، جوبو لیگ کے 70 لوگ آپ کے سامنے کیسے مر گئے؟ آج آپ کسی بھی قیمت پر طلباء کو سڑکوں سے ہٹا ئیں ۔ میں نے فوج کے ہتھیار پولیس کو دیے ، اور یہ ہتھار صرف اٹھانے کے لیے نہیں دیئے گے! آج سینکڑوں رضاکا روں کو پھینک کر سڑک صاف کرو! اس ماحول میں پولیس چیف بولے ، میں طلباء کو نہیں روک سکتا چاہے میں سینکڑوں نہیں ہزاروں کو مار دوں، آپ نے ڈی جی ایف آئی کی رپورٹ سنی ہے کہ ہزراوں طلباء ایک یا دو گھنٹے میں گنبھون کے گیٹ پر پہنچ جائیں گے۔ اور پہلے پہنچ کر فوج نے حکمت عملی کے ساتھ انہیں کچھ وقت کے لیے روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے الیکشن ترمیم ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا
وزیر اعظم اب چلا کر بولیں، میں نے کیا برا کیا ہے، میں نے کیا برا کیا ہے! میں نے ملک کے لیے کچھ کم کیا ہے، تمہارے لیے! اگر ضرورت ہو تو آج ایک ہزار مار گراؤ، سرکاری عمارتوں کی حفاظت کرو۔ یہ سن کر سب کچھ دیر خاموش رہے۔ اگرچہ وہ وزیر اعظم کے ان الفاظ سے واقف تھے، لیکن آج وزیر اعظم ایک مختلف سخت اور اونچے لہجے میں بات کر رہیں تھیں اور انکے حکم پر عمل کر کے انہیں بچایا نہیں جا سکتا تھا۔ ڈی جی ایف آئی اور آئی جی ریحانہ کو ساتھ والے کمرے میں لے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 5/10 ہزار ہلاکتوں سے بھی اس تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اور کہا کہ آپ انہیں سمجھائیں۔شیخ ریحانہ دھیر لوئے میتونگ پھر سے بیٹھ گئی اور اپنی بڑی بہن کے کندھے پر ہاتھ رکھ دھیرے سے ان سے آرمی ہیڈ کوارٹر کے تیار کردہ استعفیٰ پر دستخط کرنے کو کہا۔ ریحانہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وزیر اعظم نے پھر غصے سے انکار کیا اور آرمی چیف کو بدتمیزی سے پکارتے ہوئے کہا میرے والد نے اس ملک کو آزادی دلوائی، انہوں نے اپنے خاندان کی زندگیاں قربان کر دیں، میں نے اس ملک کے لیے کیا نہیں کیا؟ جماعت بی این پی کو اس ملک کو پاکستان بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے نئے سربراہ کا نام سامنے آگیا
سب نے گھڑی کی طرف دیکھا ، ڈی جی ایف آئی نے رپورٹ سنبھال لی – طلباء ایک بہت بڑے ہنگامہ خیز جلوس میں تیزی سے قریب آرہے تھے۔ وقت ختم ہونے کے ساتھ، وزیر اعظم کے پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے۔ سب کے چہروں پر خوف کے تاثرات تھے اور سوچ رہے تھے اس صورتحال میں اور میں اور کیا کیا جا سکتا ہے! اب اگلے کمرے میں جا کر ڈی جی ایف آئی نے حسینہ واجد کے بیٹے سجیب وازید کو جو بیرون ملک تھے فون پر تمام صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ تھوڑی دیر میں چاروں طرف سے لاکھوں لوگ ایوانِ وزیراعظم کے پبلک ہال میں پہنچ جائیں گے۔ فوج نے گولی چلائی تو بھی وزیراعظم کوان سے نہ بچایا جا سکے گا۔سجیب نے فون سنتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے میں ماں کو سمجھا رہا ہوں۔ صاجب کی کال موصول ہونے پر وزیراعظم مکمل طور پر دنگ رہ گئیں انہوں نے دکھی چہرے کیساتھ کہا کہ میں قوم سے خطاب کروں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی فوج میں بڑی تبدیلیاں، انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ سمیت بڑے جرنیل برطرف
ڈیڑھ بج چکا تھا۔ تقریباً سب نے بیک وقت کہا کہ میڈم ہمیں تقریر ریکارڈ کرنے کا وقت نہیں ملے گا۔ اگر بہت زیادہ ہو جائے تو ہم طلبہ کے روڈ مارچ کو ایک گھنٹے کے لیے طاقت سے روک سکتے ہیں۔ 45 منٹ میں آپ تیار ہیں – ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز آپ کے لیے تیار ہیں۔ کمرے کے باہر سے کچھ SSF ہاتھ جوڑ کر آئے اور ہیلی کاپٹر کے اترنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نےاستعفے کے خط پر زبردستی دستخط کیے ۔ اور انہیں ان کے بیڈ روم کی طرف لے جایا گیا۔ اس دوران ایس ایس ایف کے وائرلیس اور ان کے جوتوں کی آواز نے گنبھون میں خوفناک صورتحال پیدا کر دی۔ ریحانہ نے اپنی بہن کے پہلے ہی 14 بیگ سامان کے تیار کر رکھے تھے۔ سابق وزیراعظم کو لے جانے والی گاڑی بھاری پہرے میں ہیلی کاپٹر کی جانب بڑھی۔ دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے۔ طلبہ عوامی ہال میں داخل ہونا شروع ہو چکے تھے۔

