برطانوی ملک ویلز کی حکومت نے سیاست دانوں پر جھوٹ بولنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس قانون کو دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون قرار دیا جارہا ہے۔
برطانیہ کی چار ریاستوں میں سے ایک ویلز کی حکومت نے سال 2026 کے انتخابات سے قبل ایک ایسا قانون متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت جان بوجھ کر گمراہ کن بیانات دینے پر اراکین پارلیمان کو معطل کیا جاسکتا ہے۔
ویلز حکومت کے قونصل جنرل مک انٹونیو نے سنیڈ (پارلیمنٹ) کو بتایا کہ اگر کوئی سیاست داں گمراہ کن بیانات کا مرتکب پایا گیا تو اس قانون کے تحت اس کی ایوان کی رکنیت معطل کردی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ویلز حکومت اورپارلیمنٹ میں موجود تمام دیگر اراکین اس قانون سازی کے لیے پرعزم ہیں۔
اس قانون پر مختلف سیاسی جماعتوں اور ان کے اراکین پارلیمان میں اختلاف تھا تاہم حکومت نے اپنی شکست کو ٹالنے کے لیے آخری لمحے میں اس مجوزہ قانون کو پارلیمان کے اگلے الیکشن سے قبل نافذ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔
قانون کے حق میں 26 اراکین نے ووٹ دیے جبکہ 13 نے مخالفت کی اور 13 دیگر نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قانون نافذ ہوجانے کی صورت میں کسی بھی رکن پارلیمان کو اپنے جھوٹے یا گمراہ کن بیانات کو واپس لینے کے لیے 14 دنوں کی مہلت دی جائے گی۔ اگر وہ اس سے انکار کرتا ہے تو عدالت کے ذریعہ اس پر اگلے چار سال تک کے لیے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی جائے گی۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایسے اراکین پرجھوٹ بولنے کے لیے فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا یا سول پابندی کے تحت کیس درج کیا جائے گا۔
ویلز کی مقننہ میں ایک اہم سیاسی جماعت پلیڈ کائمرو (جو ویلز کی برطانیہ سے آزادی کے حق میں ہے) کے رہنما ایڈم پرائس نے قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ’بطور سیاستدان ہم جو کچھ کہتے ہیں اس پر عوام کا اعتماد تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔‘

