آڈیٹر جنرل آف پاکستان نےمالی سال 2022۔23 کی 93 فیصد ضمنی گرانٹس کوخلاف ضابطہ قراردے دیا ہے ، آڈیٹ رپورٹ برائے مالی سال 2022-23 کےمطابق 93 فیصد ضمنی گرانٹس کو پارلیمنٹ سے منظور ہی نہیں کروایا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اتحادی دورِ حکومت میں 93 فیصد ضمنی گرانٹس کو آڈٹ جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2022-23 رپورٹ میں خلاف ضابطہ قرار دیا گیا ہے۔ آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2022۔23 میں واضح کیا گیا ہے کہ اتحادی دورمیں93فیصدضمنی گرانٹس آئین پاکستان اورسپریم کےفیصلےکےخلاف ہیں اور مالی سال2022۔23 میں93 فیصد ضمنی گرانٹس کوپارلیمنٹ نے منظورہی نہیں کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مالی سال2023 میں وفاقی حکومت نے8ارب67کروڑ82لاکھ روپےکی ضمنی گرانٹس منظور کی تھی ان میں 8ارب4 کروڑ 94 لاکھ روپے کی ضمنی گرانٹس کی پارلیمنٹ سے منظوری نہیں لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی پیز کے مالک کون ہیں ؟ علی محمد خان نے بتا دیا
آڈیٹر جنرل رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے والی ضمنی گرانٹس خلاف ضابطہ ہے۔ آڈیٹر جنرل کی آئین کے مطابق ضمنی گرانٹس کو اسی مالی سال قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی سفارش کی گئی اور آڈیٹر جنرل کی قومی اسمبلی میں ضمنی گرانٹس پیش کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی بھی سفارش کی گئی تھی۔

