اسلام آباد: سابق سینیٹر فرحت اللّٰہ بابر نے ایف آئی اے میں طلبی کے معاملے پر اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے، جس میں انہوں نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے بار بار طلبی کو ہراسانی قرار دیا ہے۔
فرحت اللّٰہ بابر نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کے سوال میں 5 جولائی کی 3 ملین روپے کی ٹرانزیکشن کا الزام لگایا گیا، حالانکہ یہ تاریخ ابھی آئی ہی نہیں، پھر بھی الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جوابات کی تیاری کے فوری بعد واٹس ایپ پر اگلے روز ذاتی پیشی کا حکم دیا گیا، جبکہ عید کی تعطیلات سے ایک دن قبل طلبی کی اطلاع دی گئی۔
تحریری جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے 5 جون کو پیش نہیں ہو سکے۔ فرحت اللّٰہ بابر نے مزید کہا کہ وہ 12 مئی کو ہی ایف آئی اے کو اپنے اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کر چکے ہیں، مگر اس کے باوجود انہی سوالات کو دوبارہ بھیجا گیا، جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے واٹس ایپ کے ذریعے 4 جون کو اگلے روز پیشی کا حکم دیے جانے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نجی شکایت، الزامات کی فہرست یا تحقیقات کا دائرہ اب تک فراہم نہیں کیا گیا۔ بابر کے مطابق، تحریری جوابات دوبارہ ایف آئی اے میں جمع کرا دیے گئے ہیں، اور ذاتی پیشی اب عید کے بعد ہی ممکن ہے۔
فرحت اللّٰہ بابر نے کہا کہ بلا جواز سوالات اور بار بار کی طلبی کو ہراسانی سمجھتے ہیں اور وہ رونگ انکوائری اور ہراسانی کے خلاف متعلقہ فورمز سے رجوع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔