پاکستان میں بھارت کی جانب سے دریاؤں میں بغیر اطلاع پانی چھوڑنے کے سبب شدید آبی بحران پیدا ہوگیا ہے۔
دریائے ستلج، راوی اور چناب میں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دریا کنارے کی درجنوں بستیاں زیرِ آب آ گئیں اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے مطابق، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے۔ اسی طرح، راوی میں بھی پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ جاری ہے، جس کے باعث گنڈا سنگھ کے قریب پچاس سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی منتقلی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ اوکاڑہ اور بورے والا کے قریب حفاظتی بند پانی کے دباؤ کی شدت برداشت نہ کر سکے اور ٹوٹ گئے۔
🚨 شمال مشرقی پنجاب کی صورتحال خراب ہوگئی!
سیالکوٹ میں 350-400 ملی میٹر⚡ بارش ریکارڈ۔۔
اودھم پور میں 522 ملی میٹر بارش، بھارت سے سیلابی ریلے پاکستان کی جانب، پُل بہہ گئے گھر ڈوب گئے!
دریاؤں کی سطح خطرناک حد سے بھی زیادہ!! pic.twitter.com/gYuzqo9N8G— PakWeather (@Pak_Weather) August 26, 2025
بہاولنگر، منچن آباد، بابا فرید پل، بھوکاں پتن اور عارف والا میں تباہی کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں جہاں دریا کے ریلے نے کھڑی فصلوں کو بہا کر رکھ دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے راوی پر قائم تھین ڈیم کے تمام گیٹس کھول دیے گئے، جس کے نتیجے میں کوٹ نیناں سے 2 لاکھ 10 ہزار کیوسک پانی دریائے راوی میں داخل ہو چکا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق 24 گھنٹوں میں کوٹ نیناں کے مقام پر بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث شاہدرہ اور ہیڈ بلوکی سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب گزرے گا۔ راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 90 ہزار کیوسک جبکہ شاہدرہ پر 40 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ چشتیاں اور احمد پور شرقیہ میں متعدد بند ٹوٹ چکے ہیں، جبکہ خیرپور ڈاہا پل بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
دریائے چناب بھی بپھرنے لگا ہے۔ چنیوٹ کے قریب اس کا بہاؤ 1 لاکھ 10 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جب کہ ہیڈ مرالہ پر ریلا داخل ہونے سے سرحدی دیہات میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ شکرگڑھ، فیروزوالا اور دیگر نشیبی علاقوں میں ضلعی انتظامیہ متحرک ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی آبی جارحیت، دریائے چناب اور ستلج میں پانی کی سطح بلند
پی ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔


