دنیا کی نظریں ایک بار پھر نوبیل امن انعام 2025 پر مرکوز ہیں، تاہم ماہرین تقریباً متفق ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سال بھی یہ انعام حاصل نہیں کر سکیں گے, چاہے وہ خود کو اس کے مستحق کیوں نہ سمجھیں۔
تفصیلات کے مطابق نوبیل کمیٹی 10 اکتوبر کو اس سال کے فاتح کا اعلان کرے گی۔ ٹرمپ کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ 8 تنازعات کو حل کرنے پر نوبیل انعام کے حقدار ہیں، مگر ماہرین ان کے اس دعوے کو مبالغہ قرار دیتے ہیں۔
اس حوالے سے سویڈن کے بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر پیٹر والن اسٹین کا کہنا ہے کہ ’نہیں، اس سال یہ ٹرمپ کو نہیں ملے گا، شاید اگلے سال، جب ان کے اقدامات کے گرد مٹی بیٹھ جائے، بشمول غزہ بحران کے‘۔ نارویجن ماہر نینا گریگر کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیوں نے نوبیل کے بانی الفریڈ نوبیل کی وصیت میں درج امن، بین الاقوامی تعاون اور تخفیفِ اسلحہ کے اصولوں کی نفی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے امریکا کو متعدد بین الاقوامی معاہدوں اور اداروں سے الگ کیا، تجارتی جنگیں شروع کیں، گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی دی، امریکی شہروں میں فوج تعینات کی، اور جامعات و میڈیا کی آزادی کو نشانہ بنایا۔ نوبیل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فرائیڈنس نے کہا کہ کمیٹی امیدوار کے مکمل کردار اور اقدامات کو مدنظر رکھتی ہے۔
یورگن واٹنے فرائیڈنس کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے امن کے لیے حقیقی طور پر کیا حاصل کیا ہے۔ یہی ہمارے فیصلے کا بنیادی پیمانہ ہے۔ اس سال 338 افراد اور تنظیموں کو امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے، تاہم نوبیل کمیٹی کے قوانین کے مطابق یہ فہرست 50 سال تک خفیہ رکھی جائے گی۔ 2024 میں یہ انعام جاپان کے ایٹمی بم کے متاثرین کے گروپ ’نہون ہیدانکیو‘ کو دیا گیا تھا۔
اوسلو میں ممکنہ امیدواروں میں سوڈان کے ایمرجنسی ریسپانس رومز (رضاکاروں کا نیٹ ورک)، یولیا ناولنایا (روسی رہنما الیکسی ناولنی کی بیوہ) اور آفس فار ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوشنز اینڈ ہیومن رائٹس شامل ہیں۔ ناروے کے انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل افیئرز کے ڈائریکٹر ہالورڈ لیرا کے مطابق، حالیہ برسوں میں کمیٹی نے ’انسانی حقوق، جمہوریت، آزادیِ اظہار اور خواتین کے حقوق‘ پر زیادہ توجہ دی ہے۔
ماہرین کے مطابق کمیٹی اس سال کوئی غیر متنازعہ یا علامتی فیصلہ کر سکتی ہے، مثلاً اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس، یو این ایجنسیز (UNHCR یا UNRWA) یا عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) جیسی تنظیموں کو انعام دے کر موجودہ عالمی نظام کے دفاع کا پیغام دے سکتی ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی کمیٹی سب کو چونکا سکتی ہے۔ جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے ’نوبیل کمیٹی ہمیشہ وہی کرتی ہے جس کی کسی کو توقع نہیں ہوتی‘۔