اسلام آباد ہائی کورٹ میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والی ایک قیدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو ملنے والی سہولیات کی فراہمی کے لیے درخواست دائر کردی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والی قیدی محمد عرفان نے مؤقف اپنایا ہے کہ302 کے مقدمے میں 25 سال کی قید سزا کاٹ رہا ہوں،متعدد بار سپرنٹینڈنٹ جیل کو سپیریر کلاس سہولیات فراہم کرنے کی درخواست دی لیکن نہیں ملی۔
درخواست گزار نے کہا ہے کہ مجھے اس طرح کی سہولیات مہیا نہیں کی جارہی جو بانی پی ٹی آئی عمران خان کو دی جا رہی ہیں،بانی پی ٹی آئی کو نہ صرف بہترین سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں بلکہ ملاقاتیں بھی کروائی جاتی ہیں لیکن یہ سہولت مجھے دستیاب نہیں ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جو سہولیات بانی پی ٹی آئی کو مہیا ہیں مجھے بھی دی جائیں،عدالت فریقین کو ہدایت کرے کہ بانی پی ٹی آئی کو ملنے والی تمام سہولیات مجھے بھی دیں۔
دوسری جانب سینٹرل جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو جیل میں بی کلاس کی تمام سہولیات قانون و ضابطے کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جا رہا۔
بیان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو 7 سیلز پر مشتمل علیحدہ کمپلیکس میں رکھا گیا ہے جہاں ان کے لیے کھلا صحن، واک، ایکسرسائز بائیک، ایل ای ڈی، اخبارات اور ذاتی انتخاب کی کتابیں دستیاب ہیں۔
انہیں اپنی پسند کے مطابق ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا تیار کرنے کے لیے ایک قیدی باورچی بھی مہیا کیا گیا ہے، جبکہ ایسی سہولیات دیگر بی کلاس قیدیوں کو حاصل نہیں۔
سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ کی جانب سے بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں قید کے دوران اب تک 413 مرتبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر پیغامات جاری کروائے، جن میں انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو سیاسی سرگرمیوں، انتخابات، حکومت سے مذاکرات اور آئینی ترامیم سے متعلق ہدایات دیں۔ اگست 2024 سے اب تک ان کے بیانات 145 مرتبہ قومی میڈیا کی شہ سرخیاں بنے۔
بیان میں کہا گیا کہ عمران خان 10 بین الاقوامی میڈیا اداروں سے بھی رابطے میں رہے جن میں رائٹرز، فاکس نیوز، آئی ٹی وی، وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر شامل ہیں۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر جیل میں ہونے والی عدالتی سماعتوں کے دوران میڈیا نمائندوں سے براہ راست مخاطب ہوتے رہے ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ کے مطابق گزشتہ 3 ماہ میں بانی پی ٹی آئی سے 66 افراد کی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں ان کے اہلِ خانہ، سیاسی ساتھی اور وکلاء شامل تھے۔ ان کے لیے متعین جیل ڈاکٹرز روزانہ 3 مرتبہ طبی معائنہ کرتے ہیں