مشرقی پاکستان میں 1971 کے واقعات سے متعلق تاریخی ریکارڈ اور متعدد تحقیقاتی بیانات کے مطابق بھارت اور مکتی باہنی کے درمیان مبینہ طور پر ایک منظم، خفیہ اور خونی مہم چلائی گئی جسے بعد ازاں ‘آپریشن جیک پاٹ’ کے نام سے جانا گیا۔
’آپریشن جیک پاٹ‘ کی کارروائی کو مشرقی پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے، اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے اور پاکستانی شہریوں اور ریاستی اداروں پر حملوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔
تاریخی تجزیوں اور مختلف ماخذوں کے مطابق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بھارت نے خطے میں عسکری مداخلت ااور دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی کے ذریعے واقعات کی رفتار کو تبدیل کیا۔ مبصرین کے مطابق 1971 کی پاک بھارت جنگ سے قبل بھارتی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ مشرقی پاکستان میں انتشار پیدا کرنا تھا۔
رپورٹس کے مطابق فروری 1971 سے بھارت نے مبینہ طور پر مکتی باہنی کی پشت پناہی کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کے اندر کارروائیاں تیز کیں۔ مختلف تاریخی حوالوں میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 15 اگست 1971 کو اپنی منصوبہ بندی کو عملی شکل دیتے ہوئے نام نہاد ’آپریشن جیک پاٹ‘ کا آغاز کیا، جسے بھارت اور مکتی باہنی کی مشترکہ کارروائی قرار دیا جاتا ہے۔
اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے بارے میں غیر ملکی تجزیہ کار اور تاریخ دان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کو مکتی باہنی کے جنگجوؤں کو تربیت، اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی منظوری دی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تعاون کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تربیت یافتہ جنگجوؤں کو مشرقی پاکستان میں داخل کیا گیا۔
ان کارروائیوں کے باعث متعدد مقامات پر پرتشدد حملے، سرکاری عمارتوں پر دھاوا بولے جانے اور عام شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ‘آپریشن جیک پاٹ’ نے مشرقی پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو سنگین طور پر متاثر کیا اور خطے میں خانہ جنگی کی کیفیت کو مزید بھڑکایا۔
1971 کی جنگ کے پس منظر میں بھارتی مداخلت، مکتی باہنی کی سرگرمیوں اور دونوں کے درمیان مبینہ عسکری تعاون کو تاریخ کا ایک اہم مگر متنازعہ باب قرار دیا جاتا ہے، جس پر آج بھی تحقیق، مباحث اور مختلف زاویوں سے تجزیات جاری ہیں۔