وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنا موجودہ سیاسی رویہ نہ بدلا تو پارٹی پر پابندی لگانے کے بارے میں سوچنا پڑ سکتا ہے۔
شیخوپورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حالیہ بیانات اور سیاسی رجحانات ملک کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پی ٹی آئی کا وجود ملک کے لیے مناسب نہیں رہے گا۔
رانا تنویر حسین نے گفتگو کے دوران صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے جیسے بیانات کو بغاوت کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات ملک کے آئینی ڈھانچے اور ریاستی نظم و نسق کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل سیاسی ماحول کو مزید خراب کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2014 کے دھرنوں کے وقت ہی ان کا مؤقف تھا کہ عمران خان ملکی سلامتی سے کھیل رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اس وقت دھرنوں کے دوران عمران خان کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی تو آج کی صورتحال مختلف ہوتی اور سیاسی انتشار اس سطح تک نہ پہنچتا۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
رانا تنویر حسین نے 18ویں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم میں کچھ ایسی ترامیم سامنے آئیں جن میں صوبے کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو مزید ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے تاکہ نظام بہتر انداز میں چل سکے۔
اس سے قبل وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اختیار ولی خان نے بھی اس حوالے سے سخت بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور عمران خان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سے سیاسی ڈائیلاگ کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ جماعت خود کو ایک گہری کھائی میں دھکیل چکی ہے۔
اختیار ولی خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی اگلی خواہش خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی ہے، جو مزید سیاسی تناؤ کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی پالیسیاں اور بیانیہ ملک میں انتشار پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومتی رہنماؤں کے ان بیانات نے ملک کے سیاسی ماحول میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ مستقبل کے سیاسی منظرنامے کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔