وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت صارفین پر فی یونٹ اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) کی مد میں 47 پیسے فی یونٹ اضافے کی باضابطہ درخواست نیپرا میں دائر کر دی گئی ہے۔
یہ اضافہ اگر منظور ہو جاتا ہے تو پہلے سے مہنگائی کے دباؤ میں مبتلا عوام کے لیے ایک اور مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے،سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے دسمبر کے مہینے کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر بجلی کے نرخ بڑھانے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کروائی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایندھن کی لاگت میں اضافے کے باعث بجلی پیدا کرنے کے اخراجات بڑھے، جس کا اثر صارفین پر ڈالنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
نیپرا نے سی پی پی اے کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے لیے 29 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی ہے،اس سماعت میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کی منظوری یا مسترد کیے جانے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اگر نیپرا نے درخواست منظور کر لی تو اس کا براہِ راست اثر صارفین پر پڑے گا، کیونکہ اضافی قیمت ماہ فروری کے بجلی کے بلوں میں وصول کی جائے گی۔
بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی اور تجارتی شعبے کے لیے بھی تشویشناک ہے، بجلی مہنگی ہونے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا، جس کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ اس طرح مہنگائی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔
دوسری جانب عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے،صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی کے بل ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں اور مزید اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے شدید مشکلات پیدا کرے گا۔