سیمنٹ کے بعد ریت، بجری اور اینٹوں کی نئی قیمتیں مقرر

سیمنٹ کے بعد ریت، بجری اور اینٹوں کی نئی قیمتیں مقرر

حکومت پنجاب کی ہدایات پر اینٹوں اور ریت کے سرکاری نرخ باقاعدہ طور پر مقرر کر دیے گئے ہیں، جس کا مقصد گھروں کی تعمیر کرنے والے شہریوں اور تعمیراتی کاروبار سے وابستہ افراد کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی واضح ہدایات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے تاکہ تعمیراتی سامان کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا جا سکے اور عوام کو مہنگائی سے بچایا جا سکے۔

 نجی ٹی وی کے مطابق ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ ضلع بھر میں اینٹوں اور ریت کی سرکاری نرخ نامے کے مطابق فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ تعمیراتی مواد عوام کو مقررہ نرخوں پر دستیاب ہو، تاکہ لوگ بلا خوف و خطر  گھروں کی تعمیر کا کام جاری رکھ سکیں۔

انتظامیہ کے مطابق سرکاری نرخوں سے تجاوز کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس، پیرا فورس اور کنزیومر پروٹیکشن کونسل کے انسپکٹرز فیلڈ میں متحرک ہیں اور مارکیٹوں، بھٹہ جات اور سپلائی پوائنٹس پر باقاعدگی سے چیکنگ کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی من مانی قیمتیں وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں :سیمنٹ کی قیمتوں سے متعلق اہم خبر آگئی

ڈپٹی کمشنر پاکپتن نے اینٹوں کے سرکاری نرخ مقرر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اے کلاس اینٹ کی قیمت 12 ہزار روپے فی ہزار اینٹ مقرر کی گئی ہے، جبکہ بی کلاس اینٹ کی قیمت 9 ہزار روپے فی ہزار اینٹ رکھی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ نرخ مقامی مارکیٹ کے حالات اور پیداواری لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیے گئے ہیں۔

جنوری 2026 کے لیے ریت اور بجری کے نرخ

نوٹیفکیشن کے مطابق ریت کی قیمت 5 ہزار روپے فی 100 کیوبک فٹ مقرر کی گئی ہے جبکہ بجری (گریول) کی قیمت 3 ہزار 400 روپے فی یونٹ طے کی گئی ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ مقررہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

انتظامیہ کے مطابق عوام بھی اگر کسی دکاندار یا سپلائر کی جانب سے زائد قیمت وصول کرنے کی شکایت کریں تو فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامیہ کے اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ سرکاری نرخوں کے تعین سے نہ صرف تعمیراتی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی بھی ہو گی۔

editor

Related Articles