اے آئی ہیکرز کا نیا ہتھیار، گوگل نے خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا

اے آئی ہیکرز کا نیا ہتھیار، گوگل نے خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا

دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اب مصنوعی ذہانت (AI) بھی ہیکرز کے لیے ایک طاقتور ہتھیار بنتی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں گوگل نے انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز نے پہلی بار جدید ترین اے آئی ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے ایک انتہائی خفیہ اور خطرناک ہیکنگ منصوبہ تیار کیا، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔

گوگل کے تھریٹ انٹیلیجنس گروپ (Threat Intelligence Group) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سائبر مجرموں نے جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسا ’زیرو ڈے‘سیکیورٹی نقص تلاش کرنے اور استعمال کرنے کی کوشش کی جو سسٹمز میں موجود ہونے کے باوجود آسانی سے نظر نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں :رٹو طوطا کلچر کے خلاف نیا اے آئی ٹیوٹر متعارف

گوگل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ خامی اس قدر پیچیدہ اور خفیہ تھی کہ عام حالات میں تجربہ کار سافٹ ویئر انجینئرز کے لیے بھی اس کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو سکتا تھا۔ تاہم گوگل کے ماہرین نے بروقت نشاندہی کر کے ممکنہ بڑے سائبر حملے کو روک لیا۔

دوسری جانب سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک اور رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اے آئی بوٹس کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایسے حملوں کی تعداد 20 لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو دس گنا سے بھی زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :میٹا کیجانب سے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹا گرام صارفین کیلئے بڑا اعلان

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے اے آئی ماڈلز تیار کر رہی ہیں، لیکن ہیکرز بھی انہی ٹیکنالوجیز تک رسائی حاصل کر کے انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے میدان میں ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتی ہے، جہاں یہ دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ سائبر جرائم پیشہ عناصر کو بھی نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔

editor

Related Articles