رٹو طوطا کلچر کے خلاف نیا اے آئی ٹیوٹر متعارف

رٹو طوطا کلچر کے خلاف نیا اے آئی ٹیوٹر متعارف

ٹیکنالوجی کی تیزی سے بدلتی دنیا میں تعلیم کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک ایسا مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹیوٹر متعارف کرایا گیا ہے جو بچوں کو محض رٹا لگوانے کے بجائے انہیں سوچنے، سمجھنے اور خود مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد دے گا۔

دنیا کے کئی ممالک، بشمول پاکستان، میں تعلیمی نظام پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ طلبہ کی تخلیقی اور تجزیاتی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے بجائے انہیں معلومات یاد کرنے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرزِ تعلیم سے بچوں کی تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :زمین کے بعد چاند پر رہائش؟ ناسا کا منصوبہ سامنے آگیا

اسی تناظر میں تعلیمی ٹیکنالوجی کمپنی برلینٹ کی بانی سو کھم نے ایک نیا اے آئی گرافیکل ٹیوٹر تیار کیا ہے، جسے دنیا کا پہلا ایسا اے آئی استاد قرار دیا جا رہا ہے جو طلبہ کو براہ راست جواب فراہم کرنے کے بجائے انہیں خود جواب تک پہنچنے میں رہنمائی دیتا ہے۔

سو کھم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ اے آئی ٹولز بچوں کو زیادہ ذہین بنانے کے بجائے بعض اوقات ان کی سوچنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی کا اصل مقصد بچوں کو بہتر انداز میں سیکھنے میں مدد دینا ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں بلیو مون کا نظارہ آج رات ہو گا، آسمان پرمنفرد منظر کب دیکھا جاے گا؟

اس نئے اے آئی ٹیوٹر کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے ’سقراطی طریقہ تدریس‘ (Socratic Method) کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس طریقہ کار میں طلبہ کو فوری جواب دینے کے بجائے مختلف سوالات کے ذریعے سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے، تاکہ وہ مسئلے کو خود سمجھ سکیں اور اس کا حل تلاش کریں۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر ایسی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر استعمال کی گئی تو یہ طلبہ میں تنقیدی سوچ، تجزیاتی مہارت اور خود سیکھنے کی صلاحیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو مستقبل کی تعلیم کے لیے نہایت ضروری سمجھی جاتی ہیں۔

editor

Related Articles