وزیراعلیٰ شکایت سیل کی چیئرپرسن ظاہر کرکے سرکاری پروٹوکول اور وی آئی پی سہولیات حاصل کرنے کی مبینہ کوشش ناکام بنا دی گئی، پولیس نے خاتون سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے جہلم میں خود کو وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کی چیئرپرسن ظاہر کرتے ہوئے مقامی پولیس اور انتظامیہ سے خصوصی پروٹوکول اور سرکاری سہولیات کا مطالبہ کیا۔ خاتون نے مختلف مقامات پر سرکاری عہدے دار ہونے کا تاثر دینے کی کوشش کی تاہم متعلقہ حکام کو اس کی سرگرمیوں پر شبہ ہوا جس کے بعد اس کی شناخت اور دستاویزات کی جانچ پڑتال شروع کی گئی۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون سرکاری عہدے کی حامل نہیں بلکہ مبینہ طور پر جعلی حیثیت اختیار کرکے سرکاری مراعات اور پروٹوکول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خاتون اور اس کے ساتھ موجود ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار خاتون کی شناخت مہناز سعید کے نام سے ہوئی ہے جبکہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے بتایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق زیرِ استعمال گاڑی کی بھی تلاشی لی گئی جس کے دوران مبینہ طور پر شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں جس کے بعد مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف جعل سازی، سرکاری عہدے کا جھوٹا دعویٰ کرنے اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی ادارے یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس نوعیت کی سرگرمی ماضی میں بھی انجام دی گئی یا نہیں اور اس میں مزید افراد ملوث ہیں یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے نے مقامی انتظامیہ اور پولیس کو حساس سرکاری عہدوں کے نام پر پروٹوکول حاصل کرنے کی کوششوں کے حوالے سے مزید محتاط کر دیا ہے جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔