کراچی میں ایک غیر معمولی نوعیت کا مقدمہ سامنے آیا ہے جس میں ایک خاتون نے اپنی ملازمت سے برطرفی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، خاتون کا مؤقف تھا کہ انہیں صرف اس وجہ سے ملازمت سے الگ کیا گیا کیونکہ ان کا دل جسم کے دائیں حصے میں واقع ہے۔
درخواست گزار ایمان گلزار نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ اسٹیٹ بینک نے طبی معائنے کی بنیاد پر انہیں ملازمت کے لیے نااہل قرار دے دیا، حالانکہ ان کی جسمانی کیفیت پیدائشی ہے اور روزمرہ زندگی یا پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کسی رکاوٹ کا سبب نہیں بنتی۔
معاملے کی سماعت آئینی بینچ نے کی، جس میں جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو شامل تھے، دورانِ سماعت عدالت نے اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کسی فرد کو صرف جسمانی ساخت یا منفرد طبی کیفیت کی بنیاد پر ملازمت سے محروم کرنا مناسب نہیں، خصوصاً جب وہ کیفیت اس کی کارکردگی پر اثر انداز نہ ہوتی ہو۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ برطرفی کے حکم کو معطل کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ خاتون کو فوری طور پر تربیتی مرحلے میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے پیشہ ورانہ عمل میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
عدالت نے گورنر اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے، عدالتی حکم کے مطابق مقدمے کی آئندہ سماعت اگست 2026 میں ہوگی، جہاں فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
یہ مقدمہ ملازمت کے مساوی مواقع اور طبی بنیادوں پر امتیازی سلوک سے متعلق اہم قانونی نظیر بن سکتا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں اسی نوعیت کے دیگر معاملات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔