برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں ایک کمسن لڑکی کے ساتھ کئی سال تک جاری رہنے والے منظم جنسی استحصال کے سنگین مقدمے میں 15 مجرموں کو مجموعی طور پر 188 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
ویسٹ یارکشائر پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ افسوسناک واقعات 2007 سے 2011 کے دوران پیش آتے رہے، جب متاثرہ لڑکی کی عمر 14 سے 18 سال کے درمیان تھی۔
تفصیلات کے مطابق متاثرہ بچی کو مختلف اوقات میں متعدد افراد نے نشانہ بنایا اور اسے بار بار گھر سے لے جا کر زیادتی اور استحصال کا شکار بنایا جاتا رہا۔
ابتدائی طور پر ان واقعات کو درست طور پر منظم جرائم کے طور پر نہیں پہچانا جا سکا، کیونکہ متاثرہ لڑکی مختلف اوقات میں لاپتا ہوتی رہی اور اس وقت موجود معلومات ناکافی تھیں۔
2015 میں پولیس نے پرانے لاپتا افراد کے ریکارڈ اور بچوں کے استحصال سے متعلق فائلوں کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لیا، اسی دوران یہ انکشاف ہوا کہ متاثرہ لڑکی متعدد بار لاپتا ہوئی تھی اور ممکنہ طور پر کسی منظم گروہ کے ہاتھوں استحصال کا شکار رہی بعد ازاں پولیس نے متاثرہ خاتون سے رابطہ کیا جو اس وقت بالغ ہو چکی تھیں۔
متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ اسے ایک گروہ کے افراد مختلف مقامات پر لے جا کر مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اس بیان کے بعد فروری 2016 میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے پرانے ریکارڈز، گواہوں کے بیانات، اور دستیاب ڈیجیٹل شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا۔ شواہد سے یہ بات سامنے آئی کہ اس جرم میں متعدد افراد مختلف انداز میں ملوث تھے، جس کے باعث یہ ایک پیچیدہ اور طویل مقدمہ بن گیا۔
عدالتی کارروائی مختلف حصوں میں تقسیم کر کے کی گئی اور گزشتہ دو برسوں کے دوران متعدد سماعتیں منعقد ہوئیں،تمام ملزمان کو سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عدالت نے 8 سے 17 سال تک قید کی مختلف سزائیں سنائیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے ایک کم عمر بچی کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا اور اسے شدید ذہنی و جسمانی نقصان پہنچایا، جج نے یہ بھی قرار دیا کہ متاثرہ کو وہ تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکا جس کی وہ حق دار تھی۔
فیصلے کے بعدمتاثرہ خاتون نے کہا کہ ان واقعات کے اثرات ان کی پوری زندگی پر رہیں گے اور یہ تکلیف دہ یادیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی۔
بریڈفورڈ پولیس کی سینئر تفتیشی افسر وکی گرین بینک نے متاثرہ خاتون کی جرات اور حوصلے کو سراہا، جن کی مدد سے یہ طویل اور پیچیدہ مقدمہ انجام تک پہنچ سکا۔