خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور پاک فوج کو نشانہ بنانے کی ایک اور بزدلانہ کوشش کو سیکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری سے مٹی میں ملا دیا ہے۔
میران شاہ کے قریبی علاقے میں واقع ایک اہم فوجی چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج دہشتگردوں کی جانب سے کیا جانے والا ایک بڑا خودکش حملہ بری طرح ناکام بنا دیا گیا ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق خوارج نے بارود سے بھری ایک گاڑی کو تیز رفتاری کے ساتھ فوجی پوسٹ سے ٹکرانے کی ہولناک کوشش کی تھی، تاہم وہاں تعینات سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑی کو اپنے اصل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فائرنگ کر کے تباہ کر دیا۔
الحمدللہ سیکیورٹی فورسز علاقے میں ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر پہلے ہی سے انتہائی ہائی الرٹ تھیں، جس کی وجہ سے یہ بڑا حملہ ناکام ہوا اور کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔
خودکش حملے کی اس ناکام کوشش کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر ایک جامع کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا، اس فوری جوابی آپریشن کے نتیجے میں 4 خوارج جہنم واصل ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے میران شاہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی مسلسل اور انتہائی کامیاب کارروائیوں کے باعث خوارج شدید بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار ہیں اور اسی مایوسی میں انہوں نے اس ناکام حملے کے ذریعے فورسز کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی تھی۔
عسکری حکام کی جانب سے فراہم کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق میران شاہ اور مضافاتی علاقوں میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ اور سرچ آپریشنز میں اب تک 20 سے زیادہ خوارج کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے، جس سے دہشتگردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
علاقے میں اب بھی سیکیورٹی فورسز کا گرینڈ آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ اس حملے میں براہِ راست حصہ لینے والے، سہولت کاری کرنے والے اور ان خوارج کی پشت پناہی کرنے والے تمام اندرونی و بیرونی عناصر کو ڈھونڈ نکال کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز کی خوارج کے خلاف یہ ٹارگیٹڈ کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور ملک سے آخری خوارجی کے مکمل خاتمے تک یہ سلسلہ بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گا۔
شمالی وزیرستان میں خوارج کا نیٹ ورک اور حالیہ ملٹری آپریشنز
شمالی وزیرستان کا علاقہ اور بالخصوص میران شاہ ماضی میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب اور اس کے بعد ہونے والے ردالفساد کے ذریعے خطے کو دہشتگردوں کے بڑے ٹھکانوں سے پاک کر دیا گیا تھا، تاہم سرحد پار سے دوبارہ منظم ہونے والے خوارج کے کچھ بقایا جات (سلیپر سیلز) اب بھی مقامی سطح پر امن کو بگاڑنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے میران شاہ کے گرد و نواح میں ’سرجیکل اور کورٹ آپریشز‘ تیز کر دیے ہیں، جن کا مقصد دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو ابھرنے سے پہلے ہی کچلنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چند دنوں میں 20 سے زیادہ دہشتگردوں کے مارے جانے کے بعد خوارج اب گوریلا اور خودکش حملوں جیسے بزدلانہ ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں، لیکن فورسز کی پیشگی تیاری ان کے ہر حربے کو ناکام بنا رہی ہے۔
بارود سے بھری گاڑی کا خطرہ اور فورسز کا ردعمل
بارود سے بھری گاڑی کا حملہ (وی بی آئی ای ڈی) کسی بھی ملٹری پوسٹ کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں بارود کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ فورسز کا گاڑی کو پوسٹ کی حدود سے باہر ہی روک کر تباہ کر دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ پوسٹ کا دفاعی ڈیزائن انتہائی جدید اور مؤثر ہے، جس نے جوانوں کو محفوظ رکھا۔
پری ایمپٹیو اسٹرائیکس اور خوارج کی کمر ٹوٹنا
پچھلے چند دنوں میں 20 سے زیادہ فتنہ الخوارج دہشتگردوں کی ہلاکت کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا مارا جانا ظاہر کرتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اب دفاعی پوزیشن کے بجائے جارحانہ (پرو ایکٹو) پوزیشن میں ہیں اور ان کے ٹھکانوں پر پہلے جا کر حملے کر رہی ہیں، جس سے خوارج کا سپلائی چین لاجسٹکس تباہ ہو چکا ہے۔
سہولت کاروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا عزم
عسکری قیادت کا یہ بیان کہ ’مدد کرنے والے تمام عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا‘، انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کسی بھی کچے یا دور دواز علاقے میں مقامی سہولت کاروں (لوکل نیٹ ورکس) کے بغیر خودکش گاڑی تیار کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں اب ان مقامی نیٹ ورکس کو نشانہ بنا رہی ہیں، جو دہشت گردی کی جڑ کاٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔