پاکستانی ٹیلی وژن کے مقبول ترین بچوں کے ڈراموں میں شمار ہونے والے ’عینک والا جن‘ نے برسوں بعد اینیمیٹڈ فلم کی صورت میں بڑے پردے پر واپسی کی ہے، تاہم ریلیز کے ساتھ ہی فلم ایک نئے تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔
پی ٹی وی کے اشتراک سے تیار کی گئی ’’عینک والا جن ’دی اینیمیٹڈ مووی‘ کو پاکستان کی پہلی مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی فیچر اینیمیٹڈ فلم قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریباً 85 منٹ دورانیے پر مشتمل یہ اردو فلم 24 جولائی کو ملک بھر کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔
فلم میں کوہِ قاف، عینک والا جن اور دیگر معروف کرداروں کی جادوئی دنیا کو جدید اینیمیشن کے ذریعے نئی نسل کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جسے کئی شائقین نے سراہا۔
تاہم ریلیز کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر فلم کے ویژول معیار اور اے آئی کے استعمال سے متعلق بحث چھڑ گئی۔ متعدد صارفین نے مختلف مناظر میں تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فلم میں مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے مناظر واضح طور پر پہچانے جا سکتے ہیں۔
کچھ صارفین نے فلم میں املا کی مبینہ غلطیوں اور کتاب کے صفحات پلٹنے والے مناظر پر سوالات اٹھائے، جبکہ بعض نے دعویٰ کیا کہ ایک منظر میں گوگل جیمنائی کا واٹر مارک بھی دکھائی دیتا ہے۔
ان دعوؤں کے بعد سوشل میڈیا پر فلم سے متعلق طنزیہ تبصروں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ کئی صارفین نے اسے ’’اے آئی والا جن‘‘ قرار دیا، جبکہ بعض نے لکھا کہ ’’کم از کم پرو ورژن ہی استعمال کر لیتے۔‘‘
دوسری جانب فلم کے مداحوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اے آئی پر مبنی اینیمیٹڈ فیچر فلم کی تیاری ایک اہم پیش رفت ہے اور اس نئی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے وقت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔