امریکی فوج نے دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے انٹر سیپٹر میزائل تیار کرنے کے لیے 58.6 ارب ڈالر مالیت تک کا بڑا معاہدہ کر لیا، جو اب تک کا سب سے بڑا پیٹریاٹ میزائل معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے بدھ کو اس معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا۔ لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ اپریل میں 4.7 ارب ڈالر کا ایک سالہ معاہدہ طے پایا تھا، تاہم اب اسے 7 سالہ معاہدے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اس نئے معاہدے کے تحت مالی سال 2026 سے 2032 تک پیٹریاٹ انٹر سیپٹر میزائلوں کی خریداری کا جامع منصوبہ ترتیب دیا جائے گا۔
یہ معاہدہ اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے، جو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں جاری تنازعات کے باعث امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
پیداوار میں اضافے کا منصوبہ
پینٹاگون کی جانب سے دفاعی کمپنیوں پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ وہ میزائلوں کی پیداوار میں تیزی لائیں۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھی دفاعی کمپنیوں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ شیئر ہولڈرز کو منافع دینے کے بجائے پیداوار کو ترجیح دیں۔
لاک ہیڈ مارٹن کے مطابق اس فنڈنگ سے کمپنی 2030 کے اختتام تک انٹر سیپٹر میزائلوں کی پیداواری صلاحیت 3 گنا بڑھانے کے اپنے وعدے پر عمل درآمد کر سکے گی۔
منصوبے کے نتیجے میں آرکنساس کے شہر کیمڈن میں واقع پلانٹ پر ملازمتوں کی تعداد 50 فیصد بڑھ کر 1,200 سے 1,850 تک پہنچ جائے گی۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ وہ 2030 تک اپنی 20 سے زیادہ امریکی سہولیات کو جدید بنانے کے لیے 8 ارب سے 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
دیگر دفاعی کمپنیوں کے ساتھ بھی معاہدے
صرف لاک ہیڈ مارٹن ہی نہیں بلکہ دیگر دفاعی کمپنیوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کا ایک فریم ورک معاہدہ ریتھیون کی پیرنٹ کمپنی آر ٹی ایکس کے ساتھ بھی طے پایا ہے تاکہ ٹوماہاک کروز میزائلوں کی پیداوار موجودہ سالانہ تقریباً 60 یونٹس سے بڑھا کر مستقبل میں 1,000 یونٹس سالانہ تک لے جائی جا سکے۔
تنازعات اور ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور یوکرین میں جاری تنازعات کے باعث امریکا کے ہتھیاروں کے ذخائر پر شدید دباؤ ہے۔
امریکا نے اتحادی ممالک کو بڑی مقدار میں ہتھیار فراہم کیے ہیں جبکہ ساتھ ہی ساتھ ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں میں بھی گولہ بارود استعمال کیا ہے، جس کے باعث فضائی دفاعی اور درست نشانے والے ہتھیاروں کے ذخائر پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
پیٹریاٹ نظام امریکا کے سب سے اہم فضائی دفاعی نظاموں میں شمار ہوتا ہے جو یوکرین کو روس کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ لاک ہیڈ مارٹن اس سے قبل بھی متعدد بڑے دفاعی معاہدے حاصل کر چکی ہے، جن میں امریکی میزائل دفاعی ایجنسی کے ساتھ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں سے دفاع کے لیے اگلی نسل کے انٹر سیپٹرز کی تیاری کا معاہدہ بھی شامل ہے۔
عالمی کشیدگی اور امریکی دفاعی صنعت کی نئی دوڑ
یہ معاہدہ محض ایک کاروباری ڈیل نہیں بلکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی واضح عکاسی ہے۔
ایران اور یوکرین جیسے خطوں میں جاری تنازعات نے امریکا کو اپنے دفاعی ذخائر پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور اس بات کا اعتراف خود پینٹاگون کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے کہ موجودہ پیداواری رفتار ممکنہ طور پر مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دفاعی کمپنیوں پر منافع کے بجائے پیداوار کو ترجیح دینے کا دباؤ ایک اہم پالیسی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی حکومت اب اپنی دفاعی صنعت کو محض منافع بخش کاروبار کے بجائے قومی سلامتی کی ضرورت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ایک سالہ معاہدے کو براہ راست 7 سالہ منصوبے میں تبدیل کرنا بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا طویل مدتی بنیادوں پر اپنی دفاعی تیاری کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
دوسری جانب یہ معاہدہ لاک ہیڈ مارٹن جیسی کمپنیوں کے لیے ایک سنہری موقع بھی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کمپنی کو ایف-35 طیاروں کی کم ہوتی ہوئی طلب اور دیگر منصوبوں میں ناکامیوں کا سامنا رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے فضائی دفاعی نظاموں کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے دفاعی صنعت کو طویل عرصے تک فائدہ پہنچے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اربوں ڈالر کے ایسے معاہدے عالمی سطح پر ہتھیاروں کی دوڑ کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔