امریکا کے آٹو سیفٹی ریگولیٹر نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے ٹیسلا کی تقریباً 12 لاکھ گاڑیوں میں ممکنہ فنی خرابی کے معاملے پر ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
تحقیقات کا مقصد ان شکایات کا جائزہ لینا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گاڑیوں کے سسپنشن سسٹم میں خرابی کے باعث اسٹیئرنگ کنٹرول متاثر ہو سکتا ہے، جس سے ڈرائیونگ کے دوران حفاظتی خدشات پیدا ہونے کا امکان ہے۔
این ایچ ٹی ایس اے کے مطابق اس کے آفس آف ڈیفیکٹس انویسٹی گیشن کو مجموعی طور پر 156 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شکایات میں کہا گیا ہے کہ بعض 2018 سے 2020 ماڈل 3 اور 2021 سے 2023 ماڈل وائی گاڑیوں میں فرنٹ لوئر لیٹرل لنک اپنی جگہ سے الگ ہو جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اس خرابی کے باعث گاڑی چلانے کے قابل نہیں رہتی اور اسے ٹو ٹرک کے ذریعے ورکشاپ منتقل کرنا پڑ سکتا ہے۔ شکایات کے مطابق بیشتر متاثرہ صارفین کو خرابی سے پہلے کسی قسم کی وارننگ موصول نہیں ہوئی، تاہم بعض مالکان نے خرابی سے قبل گاڑی سے غیر معمولی آوازیں آنے کی نشاندہی کی۔
ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ اب تک اس ممکنہ خرابی کے باعث کسی حادثے، زخمی ہونے یا ہلاکت کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ادارے کے مطابق موجودہ کارروائی ابتدائی تحقیقات کا حصہ ہے۔ اگر جانچ کے دوران یہ ثابت ہوا کہ خرابی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے تو متاثرہ گاڑیوں کو ری کال کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ٹیسلا اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے مسائل پر متعدد گاڑیاں واپس بلا چکی ہے۔ 2021 میں کمپنی نے پیداواری نقص کے باعث تقریباً 2 ہزار 800 ماڈل 3 گاڑیاں ری کال کی تھیں، جبکہ 2023 میں اسی مسئلے پر مزید 422 ماڈل 3 گاڑیاں واپس منگوائی گئی تھیں۔
تاہم امریکی ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ حالیہ شکایات ماضی میں ہونے والی ری کالز کے دائرہ کار سے مختلف معلوم ہوتی ہیں، اس لیے موجودہ تحقیقات میں خرابی کی اصل وجہ، اس کے پھیلاؤ اور ممکنہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب ٹیسلا نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا۔ یاد رہے کہ 2023 میں رائٹرز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ٹیسلا کئی برسوں سے سسپنشن اور اسٹیئرنگ سے متعلق بعض تکنیکی مسائل کا اندرونی ریکارڈ رکھتی رہی، تاہم کمپنی اکثر ایسے معاملات میں نقصان کی ذمہ داری صارفین کے استعمال کے طریقہ کار پر عائد کرتی رہی ہے۔