پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام بنیادی آئینی حقوق کے منافی اور محض سیاسی احتجاج روکنے کی کوشش ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں، جن میں رکن صوبائی اسمبلی محمد اعجاز شفیع اور شیخ امتیاز محمود سمیت دیگر شامل ہیں، نے معروف قانون دان محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے۔
اس قانونی درخواست میں بنیادی طور پر یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ کا بظاہر واحد مقصد پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ اور احتجاجی جلسوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت کی توجہ اس اہم نکتے کی جانب مبذول کروائی ہے کہ پابندی کے لیے جاری کیے گئے سرکاری نوٹیفکیشن میں کسی بھی مخصوص سیکیورٹی خطرے کا ذکر نہیں کیا گیا، جس سے اس اقدام کی شفافیت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
درخواست میں لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکومت کو پابند کرے کہ وہ اس پابندی کی ٹھوس قانونی وجوہات اور بنیاد عدالت میں پیش کرے۔
پٹیشنرز نے عدالت سے یہ بھی التجا کی ہے کہ پُرامن اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں پر عائد اس پابندی کو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیا جائے۔
مزید برآں عدالت سے یہ عبوری ریلیف بھی مانگا گیا ہے کہ وہ غیر مسلح اور پُرامن مظاہرین کے اکٹھا ہونے پر عائد پابندی کو فوری طور پر معطل کرے اور پولیس کو واضح احکامات جاری کرے کہ وہ پرامن سیاسی ورکرز کو ہراساں نہ کرے، انہیں گرفتار نہ کرے اور ان کے خلاف کسی قسم کی ’ایف آئی آر‘ درج نہ کرے۔
ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ میں دفعہ 144 کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی یہ دفعہ ضلعی انتظامیہ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، امن و امان کے خطرے یا انسانی جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر 4 یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے، اسلحہ لے کر چلنے اور جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر دے۔
تاہم حالیہ برسوں میں اپوزیشن کی جانب سے مسلسل یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ حکومتیں اس انتظامی اختیار کو امن و امان کے قیام کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کے اعلانات کے بعد پنجاب حکومت کا یہ اقدام اسی سیاسی رسہ کشی کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔
انتظامی اختیارات اور آئینی حقوق کے درمیان توازن جمہوری معاشروں کا ایک بنیادی جزو ہے۔ جب ریاست کی جانب سے امن و امان کے نام پر دفعہ 144 کا نفاذ کیا جاتا ہے، تو اس کے لیے ٹھوس، واضح اور دستاویزی شواہد کا ہونا ضروری ہے جو یہ ثابت کریں کہ واقعی کوئی سنگین سیکیورٹی الرٹ موجود ہے۔