خیبر پختونخوا میں 37 مراکز صحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آؤٹ سورس کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا میں 37 مراکز صحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آؤٹ سورس کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن نے صوبے بھر میں معیاری علاج کی فراہمی اور رسائی یقینی بنانے کے لیے 37 مراکز صحت کی مینجمنٹ اور آپریشنز ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘ کے تحت آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم اقدام کے تحت اہل اور تجربہ کار فرموں سے باقاعدہ درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد صوبے کے دور دراز اور گنجان آباد علاقوں میں صحت کی کوریج کو وسعت دینا ہے۔ 

حکومتی وسائل اور نجی شعبے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو یکجا کر کے طبی سہولیات کا معیار بلند کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اہل تنظیموں، تجربہ کار فرموں اور جوائنٹ وینچرز سے دلچسپی کے اظہار کی درخواستیں مانگ لی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی اسپتال آئے، مریضوں کے لیے دروازے بند کر دیے گئے، یہ کونسی ہمدردی، یہ تو پروٹوکول اور محض دکھاوا ہے، شہری پھٹ پڑے

حکام کے مطابق ہر مرکز صحت کو ایک الگ پراجیکٹ کے طور پر تصور کیا جائے گا۔ اس طریقہ کار سے انتظامی امور میں شفافیت اور توجہ برقرار رکھی جا سکے گی۔ اس منصوبے میں حصہ لینے کے خواہشمند امیدواروں اور کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ’فارم 4‘ کے مطابق اپنی ترجیحات کا واضح اظہار کریں۔

کن اضلاع کے مراکز صحت آؤٹ سورس ہوں گے؟

ہیلتھ فاؤنڈیشن نے جن اضلاع کا انتخاب کیا ہے ان میں صوبے کے بالائی، میدانی اور ضم شدہ اضلاع سبھی شامل ہیں۔ جاری کردہ فہرست کے مطابق دیر لوئر، ہنگو، ہری پور، کرک، کوہاٹ، کرم، لکی مروت، اورکزئی، بونیر، پشاور اور سوات کے مراکز صحت اس آؤٹ سورسنگ منصوبے کا حصہ ہیں۔

اسی طرح شانگلہ، نوشہرہ، شمالی وزیرستان، مہمند، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے مراکز صحت بھی اسی ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘ کے تحت چلائے جائیں گے۔

صحت کے شعبے میں نجی شراکت داری

خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے مختلف انتظامی تجربات کیے جا رہے ہیں۔

 اس سے قبل بڑے اسپتالوں کو ’ایم ٹی آئی‘ ایکٹ کے تحت خود مختاری دی گئی تھی۔ تاہم صوبے کے دور دراز اور خصوصاً قبائلی اضلاع میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔

حکومتی سطح پر بھاری بجٹ کے باوجود ان علاقوں میں طبی آلات کے غیر فعال ہونے اور ادویات کی کمی کی شکایات عام تھیں۔ اسی پس منظر میں حکومت نے پرائمری اور سیکنڈری کیئر کی سطح پر نجی شعبے کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انتظامی بوجھ کم کیا جا سکے۔

طبی سہولیات اور حکومتی فیصلے کے ثمرات، ایک جائزہ

مراکز صحت کی آؤٹ سورسنگ بظاہر ایک انتظامی فیصلہ محسوس ہوتا ہے، تاہم اس کے دوررس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سرکاری سرپرستی میں نجی شعبے کا داخلہ اسپتالوں میں کارپوریٹ کلچر اور جوابدہی کے نظام کو فروغ دے گا۔

مزید پڑھیں:پمز اسپتال سانحہ، بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ’تمغہ شجاعت‘ منظور

 دور افتادہ اضلاع جیسے کہ شمالی وزیرستان، اورکزئی اور مہمند میں عام طور پر سرکاری ڈاکٹرز تعیناتی سے کتراتے ہیں۔ نجی کمپنیاں ان مراکز کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پرکشش مراعات پر عملے کی حاضری یقینی بنا سکتی ہیں۔

اس ماڈل کی کامیابی کا مکمل انحصار ہیلتھ فاؤنڈیشن کے مانیٹرنگ سسٹم پر ہے۔ اگر حکومتی سطح پر کڑی نگرانی کا نظام وضع کیا جائے تو عوام کو ان کی دہلیز پر 24 گھنٹے معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں گی۔

Related Articles