خیبر پختونخوا میں تمام شعبوں کی تباہی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت کی نااہلی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد اب 37 سرکاری مراکزِ صحت کی مینجمنٹ اور آپریشنز کو ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘ کے نام پر آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے نئے فیصلے کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت صوبے کے نظم و نسق اور عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
حکومت کی اس مسلسل نااہلی کا تازہ ترین ثبوت صحت کے شعبے میں سامنے آیا ہے، جہاں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے والے واحد سہارے یعنی 37 سرکاری مراکزِ صحت کے مینجمنٹ اور آپریشنز کو ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘ کے نام پر پرائیویٹ کمپنیوں کے حوالے (آؤٹ سورس) کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیاسی و عوامی حلقوں میں اس فیصلے کو حکومت کی کھلی ناکامی اور ایک اور نئے مالی اسکینڈل کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حال یہ ہے کہ اربوں روپے کے سالانہ بجٹ کے باوجود صوبائی حکومت سرکاری اسپتالوں اور مراکزِ صحت کو چلانے میں کیوں ناکام رہی؟ ذرائع اور ماہرین کے مطابق ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘ کا یہ ماڈل محض عوامی خدمت نہیں بلکہ ایک بار پھر ’مال بناؤ‘ پالیسی کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔
سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یہ فیصلہ واقعی صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہے یا اپنے من پسند ٹھیکیداروں اور فرموں کو نوازنے کے لیے ایک نیا راستہ تراشا گیا ہے؟
خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس آؤٹ سورسنگ کے لیے اہل اور تجربہ کار فرموں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ منصوبے کے تحت جن اضلاع کے مراکزِ صحت نجی شعبے کے حوالے کیے جا رہے ہیں ان میں بالائی و میدانی اضلاع، جن میں دیر لوئر، ہنگو، ہری پور، کرک، کوہاٹ، لکی مروت، بونیر، پشاور، سوات، شانگلہ، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں شامل ہیں ۔
جبکہ قبائلی و ضم شدہ اضلاع میں کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور مہمند شامل ہیں۔
حکومتی حکام کے مطابق ہر مرکزِ صحت کو ایک الگ پراجیکٹ کے طور پر تصور کیا جائے گا اور صارفین کو ’فارم 4‘ کے تحت ترجیحات ظاہر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ’الگ الگ پراجیکٹ‘ کی یہ تدبیر دراصل انتظامی شفافیت کے بجائے مالی من مانیوں اور بند کواڑوں کے پیچھے معاہدوں کو چھپانے کا طریقہ ہے۔
خیبر پختونخوا میں گزشتہ کئی سالوں سے صحت کے شعبے میں تجربات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل بڑے اسپتالوں کو ’ایم ٹی آئی‘ ایکٹ کے تحت خود مختاری دی گئی تھی، جو شدید انتظامی بدنظمی اور ناکامی کا شکار رہی۔
دور دراز اور قبائلی اضلاع میں ڈاکٹروں کی غیر حاضری، ادویات کی شدید قِلّت اور اربوں کے طبی آلات کا نکارہ پڑا ہونا حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت رہا ہے۔
صوبائی انتظامیہ اور سہیل آفریدی کی قیادت پر اب یہ سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں کہ جب حکومت بنیادی ترین انسانی ضرورت یعنی صحت عامہ فراہم کرنے اور اپنے عملے کو پابند بنانے کی اہل نہیں رہی، تو پھر حکومت کرنے کا جواز کیا باقی رہ جاتا ہے؟
سرکاری اسپتالوں اور مراکزِ صحت کا کنٹرول نجی کمپنیوں کے سپرد کرنا اس بات کا صریحاً اعتراف ہے کہ انتظامیہ صوبے کے امور چلانے میں مکمل طور پر نااہل ہو چکی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ہیلتھ فاؤنڈیشن اور حکومت کا مانیٹرنگ سسٹم مضبوط نہیں رہتا، تو یہ اقدام نہ صرف عام آدمی سے مفت طبی علاج کا حق چھین لے گا بلکہ صوبائی خزانے پر بوجھ بڑھا کر چند مخصوص فرموں کی جیبیں بھرنے کا ایک نیا ذریعہ بن جائے گا۔