ایک کارڈ، کئی اکاؤنٹس، ادائیگی کا نیا نظام کیا ہے؟

ایک کارڈ، کئی اکاؤنٹس، ادائیگی کا نیا نظام کیا ہے؟

موبائل فون میں موجود ایک ڈیجیٹل کارڈ ہی ڈیبٹ، کریڈٹ، پری پیڈ اور قسطوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہونے کا امکان بڑھنے لگا

کیا وہ وقت آنے والا ہے جب پرس میں موجود پلاسٹک کے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ ماضی کا حصہ بن جائیں گے اور موبائل فون ہی ہمارا بینک بن جائے گا؟مالیاتی ٹیکنالوجی میں ہونے والی نئی پیش رفت سے ایسا مستقبل اب محض ایک خیال نہیں رہا۔ دنیا کی بڑی ادائیگی کمپنیوں کی جانب سے ایسے نظام پر کام جاری ہے جس میں صارف کو مختلف مالی ضروریات کے لیے الگ الگ کارڈ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس تصور کے تحت موبائل فون میں موجود ایک ڈیجیٹل کارڈ مختلف مالی ذرائع سے منسلک ہوسکے گا۔ صارف ضرورت کے مطابق اسی ایک کارڈ کو ڈیبٹ، کریڈٹ، پری پیڈ یا قسطوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ صارفین کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

ویزا کا فلیکسیبل کریڈینشل

ادائیگیوں کی عالمی کمپنی ویزا نے  فلیکسیبل کریڈینشل کے نام سے ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس کا مقصد ایک ہی ڈیجیٹل کریڈینشل کو مختلف فنڈنگ ذرائع سے منسلک کرنا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی کارڈ کے ذریعے صارف مختلف اکاؤنٹس یا ادائیگی کے ذرائع سے رقم خرچ کرسکے گا، جبکہ ادائیگی کا ذریعہ موبائل ایپ کے ذریعے منتخب کیا جاسکے گا۔

ماسٹر کارڈ بھی اسی سمت میں

ماسٹر کارڈ بھی ون کریڈینشل  کے ذریعے اسی تصور کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اس نظام میں ڈیبٹ، کریڈٹ، پری پیڈ اور قسطوں سمیت مختلف ادائیگی کے ذرائع کو ایک ہی ڈیجیٹل کریڈینشل سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ یعنی صارف کے لیے ہر مقصد کے لیے الگ کارڈ رکھنے کے بجائے ایک ہی ڈیجیٹل کارڈ کافی ہوسکتا ہے۔

عرب دنیا میں عملی تجربہ

اگست 2026 میں اس تصور نے مزید عملی شکل اختیار کی، جب عرب دنیا میں بوٹم اور ماسٹر کارڈ نے ماسٹرون کریڈینشل پر مبنی ایک آل ان ون کارڈ متعارف کرایا۔ اس کارڈ میں پری پیڈ بیلنس، کریڈٹ اور قسطوں سمیت مختلف فنڈنگ ذرائع استعمال کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ اس طرح صارف کو اپنی ہر مالی ضرورت کے لیے الگ الگ کارڈ رکھنے کے بجائے ایک ہی کارڈ استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ کا نیا فیچر، اب دوستوں کی سالگرہ بھولنے کی فکر نہیں

کیا پلاسٹک کارڈ واقعی ختم ہوجائیں گے؟

فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پلاسٹک کے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے۔ تاہم مالیاتی دنیا جس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، اس سے واضح ہے کہ مستقبل میں کارڈ سے زیادہ اہم ڈیجیٹل کریڈینشل ہوسکتا ہے۔

ممکن ہے آنے والے برسوں میں ہمارے بٹوے میں موجود کئی کارڈز ایک ہی موبائل اسکرین میں سمٹ جائیں اور صارف صرف چند ٹیپس کے ذریعے طے کرے کہ اس وقت ادائیگی ڈیبٹ سے کرنی ہے، کریڈٹ سے، پری پیڈ بیلنس سے یا قسطوں کے ذریعے۔ یعنی مستقبل میں شاید سوال یہ نہ ہو کہ آپ کے پاس کون سا کارڈ ہے؟ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ آپ کے موبائل میں کون سا ڈیجیٹل کریڈینشل موجود ہے؟

editor

Related Articles