جو لیگ فاطمہ ثنا برسوں پاکستان میں بیٹھ کر دیکھتی رہیں، اب وہ اسی کا حصہ بننے جا رہی ہیں، قومی ویمنز ٹیم کی کپتان نے ویمنز بگ بیش لیگ کے لیے پرتھ سکارچرز سے ایک سالہ معاہدہ کر لیا ہے جس کا اعلان کلب نے ہفتے کو کیا۔
24 سالہ آل راؤنڈر ڈبلیو بی بی ایل میں کھیلنے والی صرف دوسری پاکستانی ہیں، ان سے پہلے ندا ڈار 2019 میں سڈنی تھنڈر کے لیے 11 میچ کھیل چکی ہیں، یعنی سات سال کے وقفے کے بعد کسی پاکستانی کھلاڑی کو یہ موقع مل رہا ہے۔
کتنے میچ، اور پی سی بی کا کردار
لیگ کا 12واں ایڈیشن 29 اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے اور فاطمہ ابتدائی آٹھ میچوں کے لیے دستیاب ہوں گی، اس سے زیادہ کھیلنا پاکستان کرکٹ بورڈ کی منظوری پر منحصر ہے، دسمبر میں متوقع دورۂ ویسٹ انڈیز سے پہلے قومی ٹریننگ کیمپ لگنا ہے ، بورڈ اگر انہیں اس سے چھوٹ دے دے تو وہ سکارچرز کے ساتھ مزید میچ کھیل سکیں گی۔
ایک مصروف سال
بیرونِ ملک ٹی ٹوئنٹی لیگ میں فاطمہ کی یہ اس سال دوسری شرکت ہے ، اس سے پہلے وہ انگلینڈ کی ’دی ہنڈریڈ‘ میں برمنگھم فینکس کی طرف سے کھیل چکی ہیں ، مختلف ممالک کی کنڈیشنز اور مضبوط حریفوں کے خلاف کھیلنے کا یہ تجربہ کپتان کے طور پر بھی ان کے کام آئے گا۔
“یہ خواب جیسا ہے”
کلب کے بیان میں فاطمہ ثنا نے بتایا کہ وہ پاکستان میں رہ کر ڈبلیو بی بی ایل دیکھا کرتی تھیں اور سوچتی تھیں کہ اس کا حصہ ہونا کیسا لگتا ہو گا ، ان کے بقول سکارچرز کی جرسی پہننا اور واکا گراؤنڈ کے شائقین کے سامنے اترنا ان کے لیے بہت خاص لمحہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سے ملنے والی محبت نے اس تجربے کو اور یادگار بنا دیا ہے۔
پرتھ سکارچرز کے جنرل مینیجر کیڈ ہاروی نے انہیں عالمی کرکٹ کی ابھرتی ہوئی، جوشیلی نوجوان آل راؤنڈرز میں سے ایک قرار دے کر ٹیم میں خوش آمدید کہا۔
فاطمہ ثنا کے کیرئر پر ایک نظر
کراچی کی ٹیپ بال کرکٹ سے نکل کر قومی ٹیم کی کپتانی تک کا سفر فاطمہ ثنا نے بہت کم وقت میں طے کیا ہے ، آج وہ پاکستان کی خواتین کرکٹ کا سب سے نمایاں نام ہیں۔
2019 میں ایک ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی چیمپئن شپ میں سات میچوں میں سات وکٹیں لے کر انہوں نے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کی، اور دو ماہ بعد ہی مئی 2019 میں 17 سال کی عمر میں جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو کر لیا۔
2020 میں پی سی بی ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر بنیں، اور 2021 میں آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں، اسی سال ویسٹ انڈیز کے خلاف 5/39 کی شاندار کارکردگی ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ 2022 کے ورلڈ کپ اور کامن ویلتھ گیمز میں وہ پاکستان کی سب سے کامیاب بولر رہیں۔
اگست 2024 میں پی سی بی نے انہیں مستقل کپتان مقرر کیا اورکپتان بننے کے بعد ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔ 2025 کے ورلڈ کپ کوالیفائر میں پاکستان ناقابلِ شکست رہا اور وہ ٹورنامنٹ کی بہترین ٹیم کی کپتان منتخب ہوئیں۔
2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کے خلاف ناقابلِ شکست 55 رنز اور 16 رنز کے عوض 3 وکٹیں لے کر وہ پہلی کپتان بنیں جس نے ایک ہی ورلڈ کپ میچ میں نصف سنچری تین وکٹیں اپنے نام کیں۔
اس سال وہ ٹی ٹوئنٹی میں 540 رنز کے ساتھ کسی بھی پاکستانی بلے بازوں سے آگے ہیں، اور 31 وکٹوں کے ساتھ ٹیم کی سب سے کامیاب بولر بھی ہیں ، ایشیا کپ میں ان کی قیادت میں پاکستان پوڈیم تک پہنچا۔
اپنی بولنگ، جارحانہ بیٹنگ اور پُرسکون قیادت کی بدولت فاطمہ ثنا آج نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی خواتین کرکٹ میں ایک معتبر نام بن چکی ہیں۔