چندہ مہم ناکام، عدالتی احکامات نظرانداز، پی ٹی آئی لانگ مارچ کیلئے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال شروع، سہیل آفریدی کے لیے ہیلی پیڈ بھی تیار

چندہ مہم ناکام، عدالتی احکامات نظرانداز، پی ٹی آئی لانگ مارچ کیلئے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال شروع، سہیل آفریدی کے لیے ہیلی پیڈ بھی تیار

پاکستان تحریک انصاف کی چندہ مہم میں عوام کی عدم دلچسپی کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے سیاسی مارچ کو بچانے کے لیے سرکاری مشینری اور سرکاری خزانے کا منہ کھول دیا ہے۔

معتبر ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گنڈی چوک میں منعقدہ سیاسی جلسے میں شرکت کے لیے گاڑی پر سفر کرنے کے بجائے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کا فیصلہ کیا، جس کے لیے باقاعدہ ہیلی پیڈ بھی تیار کیا گیا۔

موصوف نے عوام کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کے بجائے عوامی وسائل کے بل بوتے پر فضا سے سفر کرنے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اپر وزیرستان میں لانگ مارچ نے پرتشدد روپ دھار لیا، پی ٹی آئی کے انتشاریوں کا پولیس پر حملہ، پتھراؤ اور سیدھی فائرنگ

اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا حکومت کی درجنوں سرکاری املاک، گاڑیاں، کرینیں اور ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی گاڑیوں کو پی ٹی آئی کے اس نجی اور سیاسی مقصد کی کامیابی کے لیے جھونک دیا گیا ہے۔

مزید برآں ڈیوٹی پر مامور سرکاری ملازمین پر زبردستی دباؤ ڈال کر ان سے جلسہ گاہ کی صفائی، انتظام کاری اور سیکیورٹی کے فرائض لیے جا رہے ہیں، جو عدالتی احکامات اور انتظامی ضوابط کا کھلم کھلا انحراف ہے۔

عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر شدید ردِعمل

عدالت عالیہ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر عوامی مال و اسباب کی اس لوٹ مار پر قانونی ماہرین اور عام شہریوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جن وسائل کو صوبے کے عوام کی بنیادی فلاح و بہبود، صحت اور تعلیم پر خرچ ہونا چاہیے تھا، انہیں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ذاتی شاہ خرچیوں اور سیاسی شو کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔

قانون کی اس کھلی خلاف ورزی نے پارٹی کے تمام تر نام نہاد ’اصول پسندانہ‘ بیانیے اور آئین کی پاسداری کے دعوؤں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔

اس طرزِ عمل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ سیاسی اہداف کے حصول اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے ریاست کے قوانین اور اخلاقی معیارات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سیاسی سرگرمیوں اور سرکاری وسائل کا استعمال

خیبر پختونخوا میں سیاسی مارچ اور احتجاجی مظاہروں کے لیے صوبائی حکومت کے وسائل اور سرکاری مشینری کا استعمال پہلے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے۔

ماضی میں بھی وفاق کی جانب پیش قدمی کے دوران ریسکیو اور بلدیاتی اداروں کی گاڑیوں کو راستے کی رکاوٹیں ہٹانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

انہی اقدامات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح احکامات جاری کیے تھے کہ کسی بھی سیاسی سرگرمی کے لیے سرکاری وسائل، عوامی فنڈز اور ریاستی مشینری کا استعمال قانوناً ممنوع ہے۔

تاہم حالیہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ صوبائی انتظامیہ ان قانونی حد بندیوں کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:خدارا آنکھیں کھولیے ! پی ٹی آئی کے مارچ میں خطرناک اور مشکوک عناصر شامل ، منیب فاروق کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

جمہوری ماحول میں سیاسی جماعتوں کو جلسے جلوس اور احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے، لیکن جب سیاسی سرگرمیوں کی فنڈنگ اور انتظامی دیکھ بھال عوام کے ٹیکس سے کی جائے تو یہ شفافیت اور گڈ گورننس کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے۔

ریسکیو 1122 جیسے حساس اور ایمرجنسی اداروں کی گاڑیوں کو سڑکوں پر سیاسی مقاصد کے لیے کھڑا کر دینے سے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، کیونکہ کسی حادثے کی صورت میں امدادی خدمات متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

سرکاری ملازمین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف سول سروس کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اداروں کی غیر جانبدارانہ حیثیت کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔

آئین اور قانون کی برتری کا تقاضا ہے کہ عدالتی احکامات کی اس کھلی خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ عوامی خزانے کے سیاسی استعمال کے اس سلسلے کا سدِباب ہو سکے اور اداروں کا وقار برقرار رہے۔

Related Articles