ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کا رجحان، ستمبر 2026 کے دوران 5 ہزار 241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کرائی گئیں، جس کے بعد پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 17 ہزار تک پہنچ گئی۔ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، تجارت اور خدمات کے شعبے نمایاں رہے، جبکہ پنجاب نئی کمپنیوں کے قیام میں پہلے نمبر پر رہا۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق ستمبر کے دوران رجسٹر ہونے والی 99.9 فیصد نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن آن لائن مکمل کی گئی، جو کاروباری اندراج کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔
ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹرڈ کمپنیوں میں 3 ہزار 13 پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں اور 2 ہزار 58 سنگل ممبر کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 127 محدود ذمہ داری کی شراکت داریاں (ایل ایل پی)، 29 غیر منافع بخش ادارے، 10 پبلک کمپنیاں، 2 تجارتی تنظیمیں اور 2 غیر ملکی کمپنیاں بھی رجسٹرڈ ہوئیں۔
علاقائی اعتبار سے پنجاب نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں سرفہرست رہا، جہاں ستمبر کے دوران 2 ہزار 740 نئی کمپنیاں قائم ہوئیں۔ اسلام آباد میں ایک ہزار 9، سندھ میں 790، خیبر پختونخوا میں 428، گلگت بلتستان میں 169 جبکہ بلوچستان میں 105 کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مختلف شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سب سے زیادہ نئی کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ اس شعبے میں 920 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جبکہ تجارت کے شعبے میں 808 اور خدمات کے شعبے میں 599 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔
اسی طرح تعمیرات کے شعبے میں 339، خوراک کے شعبے میں 239، سیاحت میں 222 اور رئیل اسٹیٹ میں 193 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ تعلیم کے شعبے میں 189، ای کامرس میں 179 اور کان کنی کے شعبے میں 127 نئی کمپنیوں کا اندراج کیا گیا، جبکہ دیگر شعبوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار 426 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق ستمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی پاکستانی کمپنیوں میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس عرصے میں 167 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کے عمل میں حصہ لیا، جن میں چین 113 سرمایہ کاروں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔
کمپنیوں کی ملکیت اور انتظامی عہدوں میں خواتین کی نمائندگی سے متعلق اعداد و شمار بھی جاری کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق شیئر ہولڈرز اور ڈائریکٹرز میں خواتین کا تناسب 14 فیصد رہا، جبکہ حتمی مستفید مالکان میں خواتین کی شرح 11 فیصد اور چیف ایگزیکٹوز کے عہدوں پر ان کی نمائندگی 8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے لیے یہ اعداد و شمار کاروباری رجحانات، مختلف شعبوں میں نئی سرمایہ کاری اور خواتین کی انتظامی نمائندگی کا جائزہ لینے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ بذاتِ خود ان کمپنیوں کے فعال کاروبار شروع کرنے یا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی تصدیق نہیں کرتا
