خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ وزیراعظم ہاؤس میں اہم ترین اجلاس طلب

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ وزیراعظم ہاؤس میں اہم ترین اجلاس طلب

 خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال اور امن و امان کے درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ یا گورنر راج سے متعلق تجاویز پر غور کے لیے کل ایک اعلیٰ سطحی اہم ترین اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری قیادت شرکت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے پیش کردہ تفصیلی رپورٹس اور صوبے سے متعلق مختلف آئینی و انتظامی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے 12 حساس اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ شامل ہے۔

اس کے علاوہ، صوبے کے بعض اہم انتظامی اور سیکیورٹی اختیارات وفاق کی جانب سے براہِ راست استعمال کیے جانے کی تجاویز بھی جدول میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی لانگ مارچ پشاور پہنچ کر دم توڑ گیا، آخری پڑاؤ پر سناٹا، وزیراعلیٰ اور قیادت غائب!

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232، 233 اور 234 کے تحت حاصل اختیارات اور آئینی اقدامات پر غور کیا جائے گا، جس کے بعد اہم فیصلوں کی منظوری دیے جانے کا قوی امکان ہے۔

خیبرپختونخوا کے ان اضلاع کے حوالے سے حتمی فیصلہ بھی اسی اجلاس کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

تاہم اس اعلیٰ سطح کے اجلاس کے انعقاد اور زیرِ گردش تجاویز کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ سرکاری اعلان یا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

آئین کیا کہتا ہے ؟

آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایسی سنگین داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار موجود ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو، جبکہ آرٹیکل 234 اس صورت میں متعلقہ ہے جب صوبے میں آئینی نظام کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے۔ دونوں صورتوں کے لیے الگ آئینی شرائط اور طریقہ کار موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے مجوزہ اجلاس میں سکیورٹی اداروں کی رپورٹس، صوبے کی انتظامی صورتحال اور دستیاب آئینی آپشنز کا جائزہ لے کر آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔

editor

Related Articles