کے پی میں ایمرجنسی لگی تو وجہ لانگ مارچ نہیں بلکہ دہشتگردی کیخلاف عدم تعاون ہوگی ، طارق فضل چودھری

کے پی میں ایمرجنسی لگی تو وجہ لانگ مارچ نہیں بلکہ دہشتگردی کیخلاف عدم تعاون ہوگی ، طارق فضل چودھری

سینئیر رہنما مسلم لیگ ن  اور پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ہوتا ہے تو اسکا تعلق لانگ مارچ سے نہیں ہوگا ،  ایمرجنسی کا نفاذ  ہوا تو صوبائی حکومت کا  دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون  نہ کرنا اس کی وجہ ہو گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں طارق فضل کا کہنا تھا کہ   وفاقی حکومت کیلئے لانگ مارچ کوڈیل کرنا ایک الگ موضوع اورخیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اسے کنٹرول کرنا ایک الگ موضوع ہے ، ہمارے لئے سب سے بڑی ترجیح دہشت گردی کو کنٹرول کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ  ان کے مارچوں کو  پہلے بھی ہم ڈیل کرچکے ہیں، اس لانگ مارچ کا بھی تیاپانچہ ہوچکا  ہے ،  سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کو  ڈیل کرنے کے تمام انتظام مکمل کرلیے گئے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ وزیراعظم ہاؤس میں اہم ترین اجلاس طلب

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی ایسے لائحہ عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جس کے سبب بے گناہ لوگوں کا خون بہے ، میں انہیں بتاتا ہوں کہ ہمارے مسلح افواج، ہمارے پولیس کے جوان اور نہتے شہریوں کا بہہ رہا ہے، اس کے تدارک کیلئے ہم وہاں اقدامات اٹھا رہے ہیں، ان کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچا رہے ہیں، وفاق صوبائی حکومت سےیہی تعاون مانگ رہا ہے ۔

سہیل آفریدی کی حالیہ تقریروں کا جواب

 طارق فضل  نے سہیل آفریدی کی حالیہ تقریروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی مسلط نہیں کی گئی بلکہ آپ نے خود  دہشت گردی کو مسلط کیا ہے کیونکہ آپ نے ہمیشہ دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے کی بات کی، دہشت گردوں کو بسانے کی بات کی ، آپ کا لیڈر ہمیشہ ان (دہشتگرد گروہوں) کے دفاتر یہاں کھولنے کی بات کرتا رہا ۔

طارق فضل چودھری نے سہیل آفریدی کے حالیہ لانگ مارچ سے متعلق کہا  کہ آپ اپنے لانگ مارچ سمیت ان اضلاع میں دندناتے پھر رہے ہیں جو باقیوں کیلئے نوگوز ایریا ہیں  وہاں کسی اور جماعت کو  تو جانے کی اجازت نہیں مگر آپ محفوظ محسوس کرتے ہیں ، آپ واضح کریں کہ آپ کے ایسے کون سے تعلقات ہیں کہ آپ وہاں محفوظ ہیں ؟

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے 12 اضلاع شدید متاثر ہیں، 8 اضلاع سابق فاٹا  کے ہیں اور 4  ضلعےسیٹلڈ ایریا میں ہیں ، میں تحریک انصاف سے توقع کرتا ہوں کہ دہشت گردی کے کنٹرول میں مکمل ناکامی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنا چھوڑ دیں، ہوش کے ناخن لیں ،  پاکستان کسی تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی لانگ مارچ پشاور پہنچ کر دم توڑ گیا، آخری پڑاؤ پر سناٹا، وزیراعلیٰ اور قیادت غائب!

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اہم فیصلے کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں کل اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام متعلقہ شراکت دار شرکت کریں گے اور صوبے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

editor

Related Articles