روس امریکا اور عالمی منڈی کو 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فوری فراہم کرے گا، امریکی صدر

روس امریکا اور عالمی منڈی کو  3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فوری فراہم کرے گا، امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا ہے کہ  روس امریکا اور عالمی منڈی کو فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی صدر پیوٹن سے انتہائی کامیاب گفتگو ہوئی ہے ۔روس نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن ڈیزل فوری فراہم کرےگا۔

ٹرمپ نے کہا کہ نومبرکے بعد روس مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔

روسی صدارتی دفتر

روسی صدارتی دفتر کے مطابق پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی جس میں یوکرین بحران کے حل کے امکانات اور ایران کا ذکر بھی ہوا۔

کریملن  کے مطابق پیوٹن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے وقت پر غور کرے گا جبکہ امریکی صدر نے ایران تنازع کے حل میں روس کے کردار کو سراہا۔

اس موقع پر روسی صدر نے کہا کہ امریکی مارکیٹ میں روسی تیل سے مجموعی طور پر عالمی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کیلئے نئی مشکل، سرکاری اشتہارات کیخلاف ڈیموکریٹس عدالت پہنچ گئے

کریملن کا کہنا ہے کہ  دونوں صدور نومبر میں چین میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت کےخواہش مند ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی ڈیزل کی قیمتوں کی حوالے سے متعلق بڑا اعلان کریں گے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ عالمی منڈیوں میں ریکارڈ بلند ترین قیمتیں جلد ہی کافی نیچے آجائیں گی، ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے سے روک دیا ہے،ڈیزل کی قیمتوں میں بھی بہت جلد بڑی کمی آئے گی، سارا معاملہ جلد ختم ہوجائے گا۔

 ڈیزل کی فراہمی سے متعلق دعویٰ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس کی جانب سے ڈیزل کی فراہمی عالمی منڈی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نومبر میں 5 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔

امریکی صدر کے بیان کے مطابق نومبر کے بعد روس مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں اس منصوبے کی عملی تفصیلات یا روسی حکام کی جانب سے ڈیزل کی مقدار کی الگ سے تصدیق شامل نہیں۔

پیوٹن اور ٹرمپ کی ڈیڑھ گھنٹے گفتگو

روسی صدارتی دفتر کریملن کے مطابق صدر پیوٹن اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔ بات چیت میں یوکرین بحران کے حل کے امکانات اور ایران کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کریملن کے مطابق روسی صدر نے امریکی ہم منصب کو بتایا کہ ماسکو امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے مناسب وقت پر غور کرے گا۔ اس بیان میں مذاکرات کی بحالی کے لیے کسی حتمی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :تماشائی کی آنکھ پر گیند لگنے سے روسی ٹینس اسٹار سیمی فائنل سے باہر

کریملن کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران تنازع کے حل میں روس کے کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان عالمی صورت حال اور توانائی کی منڈیوں سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔

روسی تیل اور عالمی معیشت

کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے کہا کہ امریکی منڈی میں روسی تیل کی فراہمی سے مجموعی عالمی معیشت پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

توانائی کی عالمی منڈی میں تیل اور ڈیزل کی قیمتیں صنعتی سرگرمیوں اور نقل و حمل کے اخراجات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ تاہم روس کی جانب سے ڈیزل کی ممکنہ فراہمی سے قیمتوں میں کتنی کمی آئے گی، اس بارے میں رپورٹ میں کوئی تخمینہ نہیں دیا گیا۔

 

editor

Related Articles