فضائی سفر کو تیز تر بنانے کے لیے 222 فٹ طویل سپر سونک طیارے ’کووپلین‘ کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس کے ذریعے طویل فاصلے کے سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مجوزہ ڈیزائن کے مطابق، یہ طیارہ آواز کی رفتار سے دوگنی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جبکہ اس میں بیک وقت 200 مسافروں کے سفر کرنے کی گنجائش ہوگی۔
لندن سے آسٹریلیا تک بغیر رکے سفر؟
کووپلین کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایک ہی پرواز میں تقریباً 16 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکے گا۔ اس صلاحیت کی بدولت لندن سے آسٹریلیا تک بغیر کسی درمیانی اسٹاپ کے سفر ممکن بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق، طیارے کی رفتار کے باعث بعض طویل فضائی سفروں کا دورانیہ 70 فیصد تک کم ہوسکتا ہے، تاہم اس کا انحصار روٹ اور پرواز کے حقیقی حالات پر ہوگا۔
کووپلین کو ماضی کے مشہور سپر سونک طیارے کونکورڈ کے مقابلے میں زیادہ مسافروں کی گنجائش اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
اس کی مجوزہ رینج ایئربس اے 350 900 اور بوئنگ بی 787 9 جیسے جدید مسافر بردار طیاروں سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔
کیا یہ طیارہ حقیقت بن سکے گا؟
یہاں اہم بات یہ ہے کہ کووپلین فی الحال ایک تصوراتی ڈیزائن ہے۔ اس کی تیاری، آزمائشی پرواز یا کمرشل سروس شروع ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اگر مستقبل میں اس منصوبے کو عملی شکل دی جاتی ہے تو یہ طویل فاصلے کے فضائی سفر میں بڑی تبدیلی لاسکتا ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار ٹیکنالوجی، ایندھن کی کھپت، شور کی سطح، حفاظت اور اخراجات جیسے اہم عوامل پر ہوگا۔