انتشاری مارچ ختم، گورنر راج کے نفاذ سے صوبہ پرُسکون ہوگیا، تعلیمی ادارے بھی معمول کے مطابق کھل گئے

انتشاری مارچ ختم، گورنر راج کے نفاذ سے صوبہ پرُسکون ہوگیا، تعلیمی ادارے بھی معمول کے مطابق کھل گئے

صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نتیجے میں انتشاری مارچ ختم ہوتے ہیں صوبہ پرسکون ہو گیا ہے، پشاور میں تمام تعلیمی ادارے بھی معمول کے مطابق کھل گئے ہیں، بعض حساس علاقوں میں سیکیورٹی وجوہات کے باعث راستے بند ہیں جس کے باعث طلبہ کو اسکولوں اور کالجوں تک پہنچنے میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق بحال ہو گئی ہیں۔

محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق پشاور بھر میں تمام تعلیمی ادارے کھلے ہیں اور شعبہ تعلیم کی جانب سے کسی قسم کی عام چھٹی یا تعطیل کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

تاہم شہر کے بعض حساس علاقوں میں سیکیورٹی اور انتظامی تدابیر کے تحت راستوں اور اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث طلبہ، اساتذہ اور والدین کو وقت پر تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں سخت دشواری اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مردان اور صوابی میں تعطیلات اور مقامی انتظامیہ کے اختیارات

دوسری جانب صوبے کے دیگر اضلاع بالخصوص مردان اور صوابی میں صورتحال مختلف ہے۔

محکمہ تعلیم کے حکام نے بتایا کہ ان اضلاع میں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے احکامات کی روشنی میں تمام تعلیمی ادارے بند رکھے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی پالیسی کے تحت مقامی سطح پر انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ امن و امان یا کسی بھی ممکنہ ایمرجنسی کی صورتحال کے پیشِ نظر تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کرے اور جہاں بھی ڈسٹرکٹ انتظامیہ ایسا فیصلہ کرے گی اس پر من و عن عمل درامد کو یقینی بنایا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ پی ٹی آئی کے انتشاری مارچ کے باعث سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف اضلاع میں وقتاً فوقتاً سیکیورٹی اقدامات اور ناکہ بندیاں کی جاتی رہی ہیں۔

Related Articles