نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہاتھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کے لیے مخصوص نام استعمال کرتے ہیں اور اپنی پکار پہچاننے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہاتھی ایک دوسرے کو کیسے پکارتے ہیں؟ سائنسدانوں کی نئی تحقیق نے اس سوال کا دلچسپ جواب دے دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہاتھی ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کے لیے مخصوص نام استعمال کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسان ایک دوسرے کو نام لے کر بلاتے ہیں۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈولفن اور طوطوں میں بھی ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کے لیے آوازوں کی نقل کرنے کا رویہ دیکھا گیا ہے، تاہم ہاتھیوں کا طریقہ اس سے مختلف ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف مائیکل پارڈو کے مطابق ہاتھی نہ صرف مختلف افراد کے لیے مخصوص آوازیں استعمال کرتے ہیں بلکہ یہ بھی پہچان سکتے ہیں کہ کون سی پکار ان کے لیے ہے۔ وہ اپنے نام سے کی جانے والی پکار پر ردِعمل دیتے ہیں، جبکہ دوسرے ہاتھیوں کو مخاطب کرنے والی آوازوں پر ان کا ردِعمل نسبتاً کم ہوتا ہے۔
کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہاتھی آواز سن کر یہ سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں مخاطب کیا جا رہا ہے یا کسی اور کو۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
محققین نے کینیا کے سمبورو نیشنل ریزرو اور امبوسیلی نیشنل پارک میں 1986 سے 2022 کے دوران ریکارڈ کی گئی افریقی سوانا ہاتھیوں کی آوازوں کا جائزہ لیا۔
مشین لرننگ کی مدد سے 469 الگ الگ پکاروں کی شناخت کی گئی۔ ان میں 101 ہاتھی آوازیں نکال رہے تھے جبکہ 117 ہاتھیوں کو مخاطب کیا گیا تھا۔ ہاتھی مختلف قسم کی آوازیں نکالتے ہیں۔ ان میں بلند چنگھاڑ کے علاوہ انتہائی دھیمی گونج دار آوازیں بھی شامل ہیں، جنہیں انسانی کان عام طور پر نہیں سن سکتے۔
اس کے برعکس، جب اسی ہاتھی کو دوسرے ہاتھیوں کے لیے استعمال ہونے والی آوازیں سنائی گئیں تو اس کا ردِعمل نسبتاً کم پُرجوش تھا۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بالغ ہاتھی بچوں کے مقابلے میں نام زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس صلاحیت کو سیکھنے اور استعمال کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
انسانوں اور ہاتھیوں میں حیران کن مماثلت
تحقیقی جریدے نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ہاتھی طوطوں اور ڈولفن کی طرح محض دوسرے جانور کی آواز کی نقل نہیں کرتے، بلکہ اسے مخاطب کرنے کے لیے ایک الگ مخصوص آواز استعمال کر سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق اب تک دستیاب شواہد اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسانوں اور ہاتھیوں میں ایک دوسرے کے لیے ایسے مخصوص نام استعمال کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے جو محض مخاطب کی اپنی آواز کی نقل نہیں ہوتے۔ یہ دریافت ہاتھیوں کی ذہانت، یادداشت اور سماجی تعلقات کو سمجھنے میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔