ترکیہ کے تاریخی مقام پاموکالے میں واقع قدیم گریکو رومن مندر ’پلوٹونیون‘صدیوں تک ایک پراسرار اور جان لیوا مقام سمجھا جاتا رہا۔ اسے ’جہنم کا دروازہ‘ بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ روایات کے مطابق اس کے قریب جانے والے جانور اچانک ہلاک ہو جاتے تھے۔
تاہم جدید سائنسی تحقیق نے اس پراسرار واقعے کی ایک قدرتی وجہ سامنے لائی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مندر زمین کی ایک قدرتی دراڑ پر واقع ہے، جہاں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) گیس خارج ہوتی ہے۔
یہ گیس ہوا سے بھاری ہونے کے باعث زمین کے قریب جمع ہو سکتی ہے۔ زیادہ مقدار میں اس گیس کی موجودگی آکسیجن کی دستیابی کم کر کے دم گھٹنے اور موت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام پر موجود جانوروں کی ہلاکتوں کو ماضی میں مافوق الفطرت طاقتوں سے جوڑا جاتا رہا۔
قدیم دور میں اس مقام کو مذہبی رسومات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور اسے زیر زمین دنیا کے دیوتا پلوٹو سے منسوب کیا جاتا تھا۔ اس کی پراسرار شہرت نے اسے تاریخ اور آثار قدیمہ کے اہم مقامات میں شامل کر دیا۔
آثار قدیمہ کی بحالی کے بعد اس مقام کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے، تاہم گیس کے اخراج سے لاحق خطرے کے پیش نظر غار کے قریب حفاظتی باڑ لگائی گئی ہے۔ سیاحوں کو مخصوص محفوظ فاصلے سے ہی اس تاریخی مقام کا نظارہ کرنے کی اجازت ہے۔
یہ مقام اس بات کی مثال ہے کہ ماضی میں جن واقعات کو پراسرار یا مافوق الفطرت سمجھا جاتا تھا، جدید سائنس ان کی قدرتی وجوہات سامنے لا سکتی ہے۔