عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کیخلاف مزید مقدمات درج کروادیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق عمران خان، بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے خلاف ایک مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں صدر عارف علوی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور، شہریار ریاض، حماد اظہر اور اسد قیصر بھی نامزد ہیں۔ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں ڈکیتی، اقدام قتل اور تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات شامل ہیں۔
مقدمے کی متن میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنی بہن علیمہ خان کے ذریعے عوام کو 24 نومبر کے احتجاج کے بارے میں پیغام دیاجبکہ بشریٰ بی بی نے 19 نومبر کے ویڈیو پیغام میں پارٹی کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی اپیل کی۔ مقدمے کے مطابق ملزمان نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مجمع اکٹھا کیا اور سرکاری کام میں مداخلت کی۔
دوسری جانب فیصل آباد میں بھی تحریک انصاف کی قیادت کیخلاف مزید مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ تھانہ نشاط آباد میں عمران خان، بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا۔
اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی، کار سرکار میں مداخلت اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے مقدمے میں عمر ایوب اور عارف علوی سمیت 38 افراد کے نامزد ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اب تک عمران خان کے خلاف 4جبکہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کے خلاف 2، 2 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔