ایجوکیشن فاونڈیشن برائے ضم اضلاع کے مستقل ملازمین پر چیک نہ ہونے کی وجہ سے تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا، جس کے باعث ہر ملازم لاکھوں روپے تنخواہیں لینے لگے ہیں۔ مذکورہ ملازمین کو پراجیکٹ پے پیکج دیا جارہا ہے جو دیگر الاونسز کیلئے اہل نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود بھی کئی طرح کے الاونسز لے رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ایلیمینٹری اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں ضم کرنے کے لیے ارسال کردہ سمری بھی بے سود ثابت ہوئی جبکہ فاؤنڈیشن کے مستقل ملازمین نے بھی اپنے فائدے کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت کی پالیسیوں کے بجائے وفاق کے آفس میمورنڈم کو نافذ کر دیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایجوکیشن فاؤنڈیشن برائے ضم اضلاع خود مختار ادارہ ہے جو قبائلی اضلاع میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے 2010 میں قائم کیا گیا تھا ۔ یہ ادارہ ضم شدہ اضلاع میں ایجوکیشن فاونڈیشن ریگولیشن 2010 کے تحت کام کرتا ہے لیکن پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے کو منتقل ہو گیا۔ لیکن بدقسمتی سے صوبہ خیبر پختونخوا کے اربابِ بست و کشاد تاحال اس کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کر سکے یہی وجہ ہے کہ ابھی تک اسے کسی صوبائی ادارے میں ضم نہ کیا جا سکا۔
فاؤنڈیشن کے مستقل ملازمین میں چار افسران شامل ہیں جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس اینڈ ایڈمن، اٹھارہ گریڈ کا پرنسپل سٹاف آفیسر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس اینڈ ایڈمن شامل ہیں۔ جبکہ باقی ماندہ 4 ڈرائیورز اور کلاس فورملازمین ہیں ۔ مذکورہ بالا ملازمین کو پراجیکٹ پے پیکج کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ دیگر کئی الاؤنسز بھی لے رہے ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس اینڈ ڈیویلپمنٹ کی تنخواہ 5 لاکھ 20 ہزار روپے ہیں جس میں وہ فاؤنڈیشن الاونس بھی لے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ڈیسپیرٹی الاؤنس، پراجیکٹ الاونس، ایڈہاک ریلیف الاؤنس بھی وصول کر رہا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ایک لاکھ پچاس ہزار فاونڈیشن الاؤنس اور ڈیسپیرٹی الاونس بھی لے رہا ہے جبکہ وہ فاؤنڈیشن کا مستقل ملازم ہے اور 2 لاکھ 62 ہزار 510 روپے تنخواہ الگ سے لے رہا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس اور پی ایس او بھی الاؤنسز لے رہیں اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے۔
ذرائع نے آزاد ڈیجیٹل کو بتایا کہ جب خیبر پختونخوا کے ایلیمینٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے اس کو ضم کرنے کے لیے مراسلہ محکمہ قانون کو ارسال کیا تو اس کی مخالفت اس لیے کی گئی کہ ضم شدہ اضلاع کے ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں منیجنگ ڈائریکٹر کی پوسٹ شیڈول ہے جس کی وجہ سے اس کے انضمام کی مخالفت کی گئی اورمنیجنگ ڈائریکٹر کے دسمبر 2024 کی پے رول کے مطابق جو آزاد ڈیجٹیل کے پاس موجود ہے ان کی تنخواہ 7 لاکھ 95 ہزار 993 روپے ہے جو اردلی الاونس، سپیشل الاؤنس، ایگزایکٹو الاؤنس دو لاکھ 20 ہزار 572 اور 3 لاکھ فاؤنڈیشن الاونس لے رہا ہے تاہم قانون کے تحت وہ ایگزایکٹو یا فاونڈیشن الاونس میں سے ایک کا حقدار ہے۔
فنانس ڈویژن نے 18 اپریل کو 2022 کو ایک آفس میمورنڈم کے ذریعے پراجیکٹ پے پیکج میں اضافہ کر دیا جس میں سالانہ پانچ فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ وفاق نے کیا جبکہ فاؤنڈیشن ملازمین پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے کو منتقل ہو گئے ہیں جن پر صوبائی حکومت کی پالیسی لاگو ہوتی ہے لیکن انہوں نے اپنے فائدے کو دیکھتے ہوئے وفاق کے فیصلے کو نافذ کر دیا اور اس کو ایگزیکٹو کمیٹی سے منظور کروا لیا۔
فنانس ڈویژن میمورنڈم 2022 کے سیکشن 10 کے تحت پی ایس ڈی پی پراجیکٹس ملازمین کو اس سپیشل پے پیکج کے علاوہ دیگرسہولیات نہیں دی جائیں گی لیکن دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ مستقل ملازمین کئی طرح کے الاؤنسز لے رہے ہیں۔
جب فاٹا تھا تو اس وقت فاؤنڈیشن کے تمام تر فیصلے بورڈ ممبران کرتے تھے جس کا چیئرمین گورنر ہوتا تھا۔ ممبران میں سیکرٹری سٹیٹ اینڈ فرنٹیئر ریجن، وفاقی سیکرٹری فنانس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا، ڈائریکٹر ایجوکیشن فاٹا، بینکرز ، گورنر کی جانب سے دو نامزد ممبران پارلیمینٹ، ملک بھر سے ایک اور ممبر گورنر کی مرضی پر، تین ماہرین تعلیم جن میں دو مرد اور ایک خاتون جبکہ منیجنگ ڈائریکٹربھی ممبر ہے جو سیکرٹری بورڈ بھی ہوتا ہے۔ 2010 فاؤنڈیشن ریگولیشن میں ایگزیکٹو کمیٹی میں ایم ڈی، دو ممبران فاؤنڈیشن کی مرضی پر اور ایک کواپٹیڈ ممبر ایم ڈی کی مرضی پر لیا جاتا ہے۔ لیکن صوبے کو منتقلی کے بعد بورڈ تو ختم ہوگیا اور سارے فیصلے ایگزیکٹو کمیٹی کے زریعے ہوتے ہیں ۔
فاؤنڈیشن کی ریگولیشن کے مطابق اس کا آڈٹ نجی فرم سے کروایا جائے گا جس کی وجہ سے اپنی مرضی کی فرمز کا انتخاب کر کے سب اچھا کی رپورٹ حاصل کر لی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں مستقل ملازمین نے گورنر کے پرنسپل سیکرٹری سے ملاقات کی تاکہ صوبائی حکومت کے بجائے گورنر کے زریعے وفاق سے ہی فاونڈیشن کو چلایا جائے جس پر گورنر ہاوس نے ان سے تمام تفصیلات طلب کرلی سمیت محکمہ قانون کی رائے ٓبھی جس پر فاونڈیشن خاموش ہوگیا۔
منیجنگ ڈائریکٹر فاونڈیشن نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مستقل ملازمین دیگر الاونسز گورننگ باڈی کی منظوری سے لے رہے ہیں جس کی اجازت انہیں 2012 میں دی گئی تھی جبکہ انہوں نے اپنے ہی ایگزایکٹو الاونس اور فاونڈیشن الاونس سے متعلق کہا کہ وہ قانونی ہے کیونکہ فاونڈیشن کارپورٹ باڈی ہے اس لئے وہ دونوں لے سکتے ہیں ۔