خیبرپختونخوا کی اعلیٰ بیوروکریسی میں ایک غیر اعلانیہ مگر تیزی سے شدت اختیار کرتی کشمکش انتظامی امور کو متاثر کر رہی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور حال ہی میں تعینات ہونے والے چیف سیکرٹری شہاب علی خان کے درمیان مختلف کلیدی عہدوں پر تعیناتیوں کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جو اب ایک واضح ڈیڈلاک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
چیف سیکرٹری مبینہ طور پر اپنے قریبی اور بااعتماد افسران کو اہم انتظامی عہدوں پر تعینات کرنا چاہتے ہیں، لیکن وزیراعلیٰ ان کوششوں کو روک رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہاب علی کی جانب سے سیکرٹری خزانہ امیر سلطان ترین کا تبادلہ تجویز کیا گیا تھا، تاہم مشیر خزانہ اور وزیراعلیٰ نے اس پر عملدرآمد کی اجازت نہیں دی۔ اسی نوعیت کا معاملہ بااثر افسرعابد مجید کے ساتھ بھی پیش آیا، جو اس وقت ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اور پرنسپل سیکرٹری ٹو چیف منسٹر کے دوہری عہدوں پر تعینات ہیں۔ چیف سیکرٹری ان سے پرنسپل سیکرٹری کا منصب واپس لے کر سینیئر افسر اسرار احمد کو تعینات کرنا چاہتے تھے، لیکن وزیراعلیٰ نے یہ تبدیلی بھی مسترد کر دی۔
ذرائع کے مطابق، چیف سیکرٹری نے وفاق سے تعلق رکھنے والے چار افسران سعادت خان، ظاہر شاہ، ہمایون اور اسلام زیب کی خیبرپختونخوا میں تعیناتی کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ریکوزیشنز ارسال کی ہے، جبکہ اکاؤنٹس گروپ سے تعلق رکھنے والے شاہ محمود کی ریکوزیشن براہ راست وزیراعلیٰ کو بھجوائی گئی ہے۔ تاہم تاحال ان افسران کی تعیناتی پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ چیف سیکرٹری نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل کے نام سے ایک نئی انتظامی پوسٹ تخلیق کی ہے، جس پر اسلام زیب کی تعیناتی متوقع ہے۔ یہ عہدہ محکمہ ایڈمنسٹریشن اور اسٹیبلشمنٹ کی نگرانی کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، ہمایون خان کو سیکرٹری معدنیات اور شاہ محمود کو سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ تعینات کرنے کی حکمت عملی بھی تیار کی جا چکی ہے، تاہم ان فیصلوں پر بھی تعطل برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق ترقیاتی سکیموں میں مبینہ مداخلت کے باعث چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی کے درمیان بھی اختلافات جنم لے چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ ترقیاتی منصوبوں کے اختیارات کسی اور کو سونپنے کے لیے تیار نہیں، جو اس تصادم کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ چیف سیکرٹری نے متعدد انتظامی سیکرٹریز کے تبادلوں کی تجاویز تیار کی تھیں، لیکن ان میں سے کسی پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ مجموعی طور پر اس وقت وزیراعلیٰ ہاؤس اور چیف سیکرٹری آفس کے درمیان ایک سرد جنگ کی سی کیفیت ہے، جس کے اثرات صوبے کے مجموعی گورننس اور ترقیاتی اہداف پر پڑنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔