محکمہ خزانہ پنجاب نے رواں ماہ کی تنخواہوں سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کو اکتوبر کی تنخواہ 31 اکتوبر کو ادا کی جائے گی۔
دوسری جانب، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران تنخواہ دار طبقہ ایک بار پھر ٹیکس دہندگان میں سرفہرست رہا۔ ذرائع کے مطابق، تنخواہ دار ملازمین نے جولائی سے ستمبر کے دوران مجموعی طور پر 130 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 ارب روپے زیادہ ہے۔
گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تنخواہ دار طبقے نے 110 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کرایا تھا، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی تین ماہ میں اس طبقے نے 18 فیصد زائد ٹیکس ادا کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر تنخواہ دار طبقے نے 553 ارب روپے انکم ٹیکس جمع کرایا تھا۔
ذرائع کے مطابق، رواں مالی سال جولائی تا ستمبر ریونیو شارٹ فال 200 ارب روپے سے زائد ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، حالیہ سیلاب سے ٹیکس ریونیو میں 70 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی ریونیو کلیکشن کی شرح نمو 12.5 فیصد تک محدود رہی۔ اسی عرصے کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیلز ٹیکس میں 13 فیصد، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 26 فیصد اور کسٹمز ڈیوٹی میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق، صوبے کے سرکاری ملازمین کو وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ بینکوں اور محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔