سپریم کورٹ نے شبلی فراز کی درخواست پر سینیٹ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کردی

سپریم کورٹ نے شبلی فراز کی درخواست پر سینیٹ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کردی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز کی جانب سے سینیٹ کے ضمنی الیکشن روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ وہ سینیٹ الیکشن کے عمل میں مداخلت نہیں کرے گی اور اس معاملے پر پشاور ہائیکورٹ کو فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

بدھ کو سپریم کورٹ کے جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال مندوخیل پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ‘پی ٹی آئی نے تو امیدوار نامزد کر رکھا ہے، اگر امیدوار موجود ہے تو پھر حکمِ امتناعی کیوں مانگا جا رہا ہے؟ ’انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ بیرسٹر گوہر خان خود تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، تو پھر الیکشن رکوانے کی استدعا کا جواز کیا ہے؟’

یہ بھی پڑھیں:سینیٹ الیکشن ،تحریک انصاف دودھڑوں میں تقسیم،اے ٹی ایمز کو ٹکٹ دئیے جارہے ہیں،صدر پی ٹی آئی پشاور

عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا گیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ’پشاور ہائیکورٹ زیرِ التواء درخواست پر جلد فیصلہ کرے اور دونوں فریقین کو سننے کے بعد اپنا حکم جاری کرے‘۔

سماعت کے دوران بیرسٹر گوہر علی نے وکیل کے ذریعے عدالت سے استدعا کی کہ ’کل جمعرات ہونے والا سینیٹ کا ضمنی الیکشن روکا جائے ‘کیونکہ ان کے مطابق ’الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی کی ہے اور ہمیں بے آبرو کر کے نکالا گیا ہے‘۔

تاہم جسٹس امین الدین خان نے واضح ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’حکمِ امتناع دینے کے اصول بہت واضح ہیں، جب ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تو حکمِ امتناع کیسے دیا جا سکتا ہے‘؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’اس کیس میں اسپیکر پشاور ہائیکورٹ میں فریق تھے مگر یہاں انہیں فریق نہیں بنایا گیا‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریلیف حاصل کرنے کے لیے گرفتاری دینا ضروری ہے کیونکہ درخواست گزار انسدادِ دہشتگردی عدالت سے سزا یافتہ ہے۔‘

مزید پڑھیں:الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ واپس لے لیا، حلقہ بندیاں بھی نہیں ہوں گی

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ’پشاور ہائیکورٹ نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کیس قابلِ سماعت ہے یا نہیں، لہٰذا فیصلہ دینا ضروری تھا۔‘

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’کیا درخواست گزار پشاور ہائیکورٹ آتے ہیں؟ اگر آتے ہیں تو انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟ ’ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’ملزمان سپریم کورٹ میں بھی نہیں آئے، آج کی سماعت میں بھی وہ موجود نہیں‘۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پشاور ہائیکورٹ نے مختصر حکمنامہ کی بجائے 31 صفحات لکھ دیے، اب صرف ایک پیراگراف لکھنا باقی رہ گیا تھا۔‘

آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ ’یہ مقدمہ صرف حقوق سے متعلق ہے، اور عدالت سینیٹ الیکشن میں مداخلت نہیں کرے گی۔‘

Related Articles