2026 میں سولر پینلز سستے ہونگے یا مہنگے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

2026  میں سولر پینلز  سستے ہونگے یا مہنگے؟  اہم تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان میں سال 2025 کے دوران سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس کی بنیادی وجوہات عالمی سطح پر چینی مینوفیکچررز کی جانب سے زیادہ پیداوار اور ملکی سطح پر روپے کی نسبتاً مستحکم صورتحال بتائی جا رہی ہیں۔ ان عوامل کے باعث پورے سال سولر توانائی کے شعبے میں قیمتیں کم رہیں اور صارفین کو نمایاں ریلیف حاصل ہوا۔

سال 2025 کے آخری ہفتوں میں موسم سرما کے باعث سولر پینلز کی طلب میں کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑی حد تک مستحکم رہیں۔ تاہم سال کے آخری چند دنوں میں اچانک سولر پینلز کی قیمتوں میں 8 سے 11 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے مارکیٹ میں ایک بار پھر بحث کو جنم دے دیا۔

سولر انڈسٹری سے وابستہ محمد گل باز کے مطابق آنے والے مہینوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں مزید 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین میں سولر ماڈیولز کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس کا اثر پاکستان کی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ محمد گل باز کے مطابق جو تاجر اس وقت سولر پینلز امپورٹ کریں گے، وہ مستقبل میں بہتر منافع حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2026 کے آغاز میں پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور فی واٹ قیمت جو اس وقت 27 یا 28 روپے ہے، وہ بڑھ کر 38 یا 39 روپے تک جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی امریکا میں امیگریشن سے متعلق نئے قوانین نافذ

دوسری جانب سولر انرجی کے ماہر انجینئر نور بادشاہ نے اس حوالے سے مختلف رائے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2025 کے اختتام پر موجود ریٹس کو مدنظر رکھا جائے تو 2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کسی بڑے اضافے کا امکان نہیں۔ ان کے مطابق قیمتوں میں معمولی اضافہ ممکن ہے جو تقریباً 3 سے 5 فیصد کے درمیان ہوگا اور یہ مارکیٹ ایڈجسٹمنٹ کا قدرتی حصہ ہے۔

انجینئر نور بادشاہ نے مزید بتایا کہ عالمی سطح پر چین میں پالیسی تبدیلیوں کے باعث سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عالمی سپلائی ابھی ختم نہیں ہوئی، اس لیے کسی غیر معمولی مہنگائی کے امکانات کم ہیں۔

پاکستانی مارکیٹ کے تناظر میں یہ امر بھی اہم ہے کہ 2025 کے آخر میں سولر پینلز کی قیمتیں تاریخی طور پر کم ترین سطح پر تھیں، حتیٰ کہ بعض پینلز 18 سے 20 روپے فی واٹ تک دستیاب تھے۔ اس کے بعد جو اضافہ دیکھنے میں آیا وہ محدود نوعیت کا تھا۔ ایسے حالات میں 2026 کے دوران قیمتوں میں استحکام یا معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو عموماً 3 سے 10 فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حالیہ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے باعث آنے والے مہینوں میں طلب میں کمی متوقع ہے، جس سے قیمتیں قابو میں رہیں گی۔ حسنات خان کے مطابق 2026 کے دوران مجموعی طور پر سولر مارکیٹ میں استحکام کا امکان ہے اور کسی غیر معمولی مہنگائی کے امکانات نظر نہیں آتے۔

Related Articles