انگلینڈ کے مایہ ناز آل راؤنڈر معین علی نے پاکستانی کرکٹرز کے حق میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کھلاڑیوں کو یہ محسوس ہوا کہ دی ہنڈرڈ میں پاکستانی پلیئرز کو بھارتی مالکان کی جانب سے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے تو وہ اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کا امتیازی سلوک برطانیہ جیسے ملک میں ہرگز قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں معین علی نے واضح کیا کہ کسی بھی کھلاڑی کو اس کی قومیت یا پس منظر کی بنیاد پر نظر انداز کرنا نہایت افسوسناک اور کھیل کی روح کے منافی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کو سیاست سے بالاتر رہنا چاہیے اور ٹیلنٹ کو ہی اصل معیار بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو اس معاملے پر گہری نظر رکھنی چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناانصافی کی بروقت روک تھام کی جا سکے۔ معین علی کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ برطانیہ میں ایسا ہو سکتا ہے، ہمیں انتظار کرنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے، لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ انتہائی افسوسناک ہوگا، مجھے یقین ہے کہ بورڈ اس پر کڑی نگرانی رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کھلاڑیوں کو محسوس ہوا کہ دی ہنڈرڈ کی ٹیموں کے مالکان امتیازی رویہ اختیار کر رہے ہیں تو پلیئرز متحد ہو کر آواز بلند کریں گے۔ پلیئرز کا ایک مضبوط گروپ ضرور بولے گا اور خاموش نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس کھلاڑی کو بھی اس قسم کے معاملات پر تشویش ہو، اسے کھل کر بات کرنی چاہیے، چاہے اس کا تعلق پاکستان سے ہو یا کسی اور ملک سے۔
معین علی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر خطے میں سیاسی کشیدگی برقرار رہی تو بنگلہ دیشی کھلاڑی بھی ایسے ممکنہ رویے کا سامنا کر سکتے ہیں، خصوصاً بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں خرابی کے تناظر میں۔ ان کے مطابق کھیل کے میدان میں کسی بھی ملک کے کھلاڑی کو سیاسی اختلافات کا خمیازہ نہیں بھگتنا چاہیے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اس حساس معاملے پر بات کرنا ہر کھلاڑی کیلئے آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس کے کیریئر پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کی بڑی لیگز میں مختلف ملکوں کے مالکان اور فرنچائزز موجود ہیں، نوجوان کھلاڑی اکثر مشکل پوزیشن میں ہوتے ہیں اور کھل کر اظہار رائے سے ہچکچاتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میرے جیسے سینئر کھلاڑی کو اب زیادہ فکر نہیں ہوتی، اس لیے اگر ضرورت پڑی تو میں ضرور بات کروں گا۔
معین علی نے یہ بھی کہا کہ یہ ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کسی کھلاڑی کو اس کے پس منظر کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا، لیکن اگر کئی سال تک پاکستانی کھلاڑیوں کو منتخب نہ کیا جائے تو معاملہ خود واضح ہو جائے گا۔ ان کے مطابق شفافیت اور میرٹ پر مبنی انتخاب ہی کھیل کی ساکھ کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
انگلش آل راؤنڈر نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان انگلینڈ کے نیوٹرل مقام پر ٹیسٹ میچز کا انعقاد ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے ٹیسٹ کرکٹ کیلئے شاندار ثابت ہوں گے اور شائقین کی تعداد اور جوش و خروش ناقابل یقین ہوگا۔ انگلینڈ کے تاریخی میدان ایسے مقابلوں کیلئے بہترین ثابت ہو سکتے ہیں۔
کرکٹ حلقوں میں معین علی کے بیان کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے اور اسے کھلاڑیوں کی اجتماعی آواز کا پیش خیمہ سمجھا جا رہا ہے۔