پاکستانی فیشن ڈیزائنرحسین ریہار کا کانز فلم فیسٹیول میں تاریخی قدم

پاکستانی فیشن ڈیزائنرحسین ریہار کا کانز فلم فیسٹیول میں تاریخی قدم

ریہار اپنی نئی کلیکشن اے ناٹ ان ساوتھ ایشیازلوم،لاہورآج (جمعہ) فیسٹیول کے 79ویں ایڈیشن میں پیش کر رہے ہیں۔ یہ خصوصی نمائش شاتو سینٹ جارج میں انویٹیشن بیسڈ ایونٹ کے طور پر منعقد کی جا رہی ہے۔

ڈیزائنر کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق یہ کلیکشن فیشن کی تاریخ کو جنوبی ایشیا کے تناظر میں دوبارہ بیان کرنے کی کوشش ہے، جس میں لاہور کی ثقافت، ہنر اور شناخت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  :تبو نے بالی ووڈ کا چھپا سچ سامنے رکھ دیا

ریہار نے مزید بتایا کہ یہ کلیکشن نوآبادیاتی سوچ سے آزاد فیشن بیانیہ پیش کرتا ہے اور اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح جنوبی ایشیائی دستکاریوں کو عالمی سطح پر اکثر ان کے اصل نام اور شناخت سے الگ کر دیا گیا۔

اس میں زردوزی، پھولکاری، کھسہ اور مانگ ٹیکا جیسے روایتی فنون کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ صرف آرٹ نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی ورثہ ہیں جنہیں تسلیم کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستانی شوبز میں عمر کے دہرےمعیار پر عمارہ خان کا سخت بیان سامنے آگیا

ریہار کا کہنا تھاکہ ’’آپ اس چیز کا نام تبدیل نہیں کر سکتے جو آپ نے خود تخلیق نہیں کی۔ اگر کیمونو کو کیمونو کہا جا سکتا ہے تو دوپٹے کو بھی دوپٹہ ہی کہا جانا چاہیے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کلیکشن صرف فیشن نہیں بلکہ شناخت، ورثے اور دستکاری کی واپسی کا پیغام ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جب حسین ریہار نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی ہو۔ اس سے قبل وہ پیرس فیشن ویک میں اپنی کلیکشن ’’جیون‘‘ پیش کر چکے ہیں، جس میں پاکستانی کاریگروں کے ہنر کو اجاگر کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 2017 میں ڈیزائنر ناتاشا کمال نے بھی پیرس فیشن ویک میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی، جو مختلف ممالک کے ڈیزائنرز پر مشتمل ایک خصوصی نمائش کا حصہ تھیں۔

editor

Related Articles