سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے دائر کی گئی شکایت ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔ فیصلے سے پی ٹی آئی رہنما اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
عمر ایوب خان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ عام انتخابات 2024 میں ’’مبینہ منظم دھاندلی‘‘ کی گئی، لہٰذا اس بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آئینی و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ درخواست میں انتخابات کے نتائج، مبینہ تبدیلیوں اور ’’فارم 47‘‘ کے تنازع کو بھی بنیاد بنایا گیا تھا۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے 11 فروری کو ہونے والے اجلاس میں اس شکایت کا جائزہ لیا اور تمام قانونی و آئینی پہلوؤں پر غور کے بعد درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے درمیان اختلافات کی تاریخ فروری 2024 کے عام انتخابات سے قبل ہی نمایاں ہو چکی تھی۔ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کرتے ہوئے پارٹی کا انتخابی نشان ’’بلا‘‘ واپس لینے اور متعدد رہنماؤں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
انتخابات کے بعد بھی پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی نتائج میں مبینہ رد و بدل کے الزامات لگائے جاتے رہے، جس کے بعد عمر ایوب نے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل اعلیٰ عدلیہ اور بعض آئینی عہدیداروں کے خلاف شکایات کا جائزہ لینے والا مجاز فورم ہے۔
سیاسی اور قانونی حلقوں میں سپریم جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ فیصلے سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ کسی آئینی عہدیدار کے خلاف کارروائی کے لیے صرف سیاسی الزامات یا انتخابی تنازعات کافی نہیں، بلکہ ٹھوس قانونی شواہد بھی ضروری ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شکایت کے اخراج کو تحریک انصاف کے لیے قانونی محاذ پر ایک دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ پارٹی طویل عرصے سے انتخابی دھاندلی کے مؤقف کو سیاسی اور عدالتی سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔