آزاد جموں کشمیر کے صنعتی شہر میرپور میں عوامی ایکشن کمیٹی کو اس وقت ایک بڑا اور غیر متوقع سیاسی دھچکا لگا جب تنظیم کے انتہائی متحرک اور کلیدی رہنما احسان شبیر شانی نے کمیٹی کی پالیسیوں اور حالیہ احتجاجی حکمتِ عملی سے شدید اختلاف کرتے ہوئے تنظیم سے مستقل علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔
مرزا شبیر کے فرزند اور میرپور کے رہائشی احسان شبیر شانی نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی سے اپنے تمام روابط ختم کرنے کی تصدیق کی ہے۔
ویڈیو بیان میں اہم نکات
اپنے تفصیلی ویڈیو بیان میں احسان شبیر شانی کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک انتہائی فعال، نظریاتی اور سرگرم رکن رہے ہیں اور انہوں نے عوامی حقوق کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
تاہم حالیہ کچھ عرصے کے حالات و واقعات، احتجاج کی آڑ میں سامنے آنے والی پُرتشدد سرگرمیوں، سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کی پالیسی نے انہیں سخت مایوس کیا ہے۔
انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے تشدد یا ریاست مخالف ایجنڈے کا حصہ نہیں بن سکتے، اسی لیے وہ اس تنظیم سے فوری علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔
احسان شبیر شانی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ ماضی میں ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے ایک متحرک اور سرگرم رکن رہے ہیں اور مختلف عوامی و سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ تاہم وقت کے ساتھ تنظیم کے اندر ہونے والی تبدیلیوں اور حالیہ واقعات نے انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی پر مجبور کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسے کسی پلیٹ فارم کا حصہ نہیں رہ سکتے جس کے ساتھ پُرتشدد سرگرمیوں کا تاثر جڑتا جا رہا ہو۔
قیادت پر عدم اعتماد
اپنے بیان میں احسان شبیر شانی نے تنظیمی قیادت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ موجودہ قیادت تنظیم کو ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جس سے وہ اصولی طور پر اتفاق نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق یہ راستہ نہ صرف تنظیم کے بنیادی مقاصد سے انحراف ہے بلکہ اس سے عوامی اعتماد بھی متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے کے باوجود تنظیم کے اندر اصلاح کی کوشش کی گئی، تاہم جب بہتری کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو علیحدگی ہی واحد راستہ رہ گیا۔
بیانِ حلفی جمع
احسان شبیر شانی نے اپنی علیحدگی کو باقاعدہ اور قانونی شکل دیتے ہوئے ایک بیانِ حلفی بھی جمع کروایا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اب عوامی ایکشن کمیٹی کی کسی سرگرمی، فیصلے یا مؤقف کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق بیانِ حلفی متعلقہ فورم پر جمع کروایا جا چکا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی غلط نسبت یا قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی‘ ایک ایسی تنظیم رہی ہے جو مختلف عوامی، سماجی اور بعض اوقات سیاسی معاملات میں سرگرم رہی ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے اس تنظیم کے حوالے سے مختلف حلقوں میں تحفظات سامنے آ رہے تھے، خاص طور پر اس کی سرگرمیوں کے طریقہ کار اور بعض واقعات میں مبینہ طور پر شدت پسندی کے عنصر پر سوالات اٹھائے گئے۔
میرپور اور اس کے گردونواح میں اس تنظیم کا خاصا اثر و رسوخ رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کے اندرونی اختلافات بھی عوامی سطح پر موضوعِ بحث بنتے رہے ہیں۔
احسان شبیر شانی کی علیحدگی کو محض ایک فرد کا ذاتی فیصلہ قرار دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک بڑے رجحان کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔ جب کسی تنظیم کے فعال اور نمایاں اراکین اس سے الگ ہونا شروع ہو جائیں تو یہ اندرونی بحران، قیادت پر عدم اعتماد اور پالیسیوں میں تضاد کی علامت ہوتا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ تنظیم کے اندر بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے یا کم از کم اس پر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔ اگر دیگر اراکین بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہیں تو یہ تنظیم کے لیے ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، بیانِ حلفی جمع کروانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ احسان شبیر شانی اپنے فیصلے کو نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی واضح کرنا چاہتے ہیں، جو اس معاملے کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد مقامی سطح پر عوامی ایکشن کمیٹی کی ساکھ اور تنظیمی طاقت پر اثر پڑ سکتا ہے، خصوصاً اگر مزید رہنما یا کارکن بھی اسی راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ معاملہ سیکیورٹی اور انتظامی اداروں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا سکتا ہے۔