اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ایک غیر معمولی اور بڑے منصوبے کا انکشاف کیا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ کو زمین سے خلا میں منتقل کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے مطابق مستقبل میں بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو زمین کے بجائے خلا میں قائم سیٹلائٹس کے نیٹ ورک پر منتقل کیا جائے گا، جہاں یہ ایک مربوط نظام کے طور پر کام کریں گے۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ زمین پر ڈیٹا سینٹرز کو جگہ کی کمی، زیادہ بجلی کی کھپت اور کولنگ کے لیے پانی کے استعمال جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ خلا میں یہ مسائل کافی حد تک ختم ہو سکتے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت متعدد جدید سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جائیں گے جو آپس میں جڑ کر ایک طاقتور سپر کمپیوٹنگ نیٹ ورک تشکیل دیں گے۔ان سیٹلائٹس میں توانائی کے لیے سولر پینلز اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیے ہیٹ ریڈی ایٹرز استعمال کیے جائیں گے۔ زمین سے رابطے کے لیے تیز رفتار لیزر لنکس اور اینٹینا سسٹمز کے ذریعے ڈیٹا ٹرانسفر کیا جائے گا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق یہ نظام اسٹار لنک وی 3 سیٹلائٹس کے بنیادی ڈیزائن پر مبنی ہوگا، جس کی تیاری کا زیادہ تر کام پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔ایلون مسک کا کہنا ہے کہ دنیا میں بڑے پیمانے پر سیٹلائٹ نیٹ ورک چلانے کا تجربہ محدود ہے اور اسپیس ایکس اس شعبے میں سب سے آگے ہے، اسی لیے یہ منصوبہ کمپنی کی مستقبل کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔