ایلون مسک کا نیا خلائی منصوبہ، اے آئی ڈیٹا سینٹرز خلا میں منتقل

ایلون مسک کا نیا خلائی منصوبہ، اے آئی ڈیٹا سینٹرز خلا میں منتقل

اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ایک غیر معمولی اور بڑے منصوبے کا انکشاف کیا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ کو زمین سے خلا میں منتقل کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔

منصوبے کے مطابق مستقبل میں بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو زمین کے بجائے خلا میں قائم سیٹلائٹس کے نیٹ ورک پر منتقل کیا جائے گا، جہاں یہ ایک مربوط نظام کے طور پر کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں :چین کا بڑا کارنامہ، سمندر کے اندر دنیا کا پہلا تجارتی ڈیٹا سینٹر فعال

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ زمین پر ڈیٹا سینٹرز کو جگہ کی کمی، زیادہ بجلی کی کھپت اور کولنگ کے لیے پانی کے استعمال جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ خلا میں یہ مسائل کافی حد تک ختم ہو سکتے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت متعدد جدید سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جائیں گے جو آپس میں جڑ کر ایک طاقتور سپر کمپیوٹنگ نیٹ ورک تشکیل دیں گے۔ان سیٹلائٹس میں توانائی کے لیے سولر پینلز اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیے ہیٹ ریڈی ایٹرز استعمال کیے جائیں گے۔ زمین سے رابطے کے لیے تیز رفتار لیزر لنکس اور اینٹینا سسٹمز کے ذریعے ڈیٹا ٹرانسفر کیا جائے گا۔

یہبھی پڑھیں :آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کرنے کے احکامات جاری

میڈیارپورٹس کے مطابق یہ نظام اسٹار لنک وی 3 سیٹلائٹس کے بنیادی ڈیزائن پر مبنی ہوگا، جس کی تیاری کا زیادہ تر کام پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔ایلون مسک کا کہنا ہے کہ دنیا میں بڑے پیمانے پر سیٹلائٹ نیٹ ورک چلانے کا تجربہ محدود ہے اور اسپیس ایکس اس شعبے میں سب سے آگے ہے، اسی لیے یہ منصوبہ کمپنی کی مستقبل کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں :جنگی محاذ پر بغیر انسان کے لڑنے والی مشینیں توجہ کا مرکز

مزید معلومات کے مطابق اسپیس ایکس 2026 کے آخر تک خلا میں ایک مخصوص فیکٹری قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جو صرف اے آئی سیٹلائٹس کی تیاری کرے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ تصور ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے، تاہم اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سینٹرز کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

editor

Related Articles