بلیک ہول کے انتہائی قریب تیز رفتار ستارے کی دریافت

بلیک ہول کے انتہائی قریب تیز رفتار ستارے کی دریافت

ماہرینِ فلکیات نے ملکی وے کہکشاں میں اب تک دریافت ہونے والے تیز ترین ستاروں میں ایک غیر معمولی ستارہ دریافت کیا ہے، جو کہکشاں کے مرکز میں موجود سپر میسیو بلیک ہول ’سیگیٹیریس اے اسٹار‘ کے انتہائی قریب مدار میں گردش کر رہا ہے۔

ایس 301  نامی یہ ستارہ بلیک ہول کے گرد گردش کے دوران تقریباً 25 ہزار کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصل کرتا ہے، جو روشنی کی رفتار کا تقریباً 8 فیصد بنتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایس 301 صرف 8.7 سال میں سیگیٹیریس اے اسٹار کا ایک چکر مکمل کرتا ہے، جو اس نوعیت کے معلوم ستاروں میں انتہائی مختصر مداری دورانیہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ کا بڑا اپڈیٹ، تصاویر ایڈٹ کرنا ہوگا مزید آسان

ستارہ اپنے مدار کے قریب ترین مقام پر بلیک ہول سے زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے تقریباً 12 گنا زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے۔ اتنی قربت کے باعث اس کی حرکت پر بلیک ہول کی شدید کششِ ثقل اور اس کے اسپن سے پیدا ہونے والے خلائی وقت کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق ایس 301 کا تفصیلی مشاہدہ انتہائی طاقتور کششِ ثقل کے ماحول میں آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کو جانچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس ستارے کی حرکت سے سیگیٹیریس اے اسٹار کی گردش یا اسپن کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔یہ دریافت یورپی سدرن آبزرویٹری کے ویری لارج ٹیلی اسکوپ انٹرفیرومیٹر  کی مدد سے کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی طلبہ اب مفت میں AI استعمال کریں گے، گوگل کا بڑا اعلان

ماہرین کا خیال ہے کہ ایس 301 ممکنہ طور پر ماضی میں دو ستاروں پر مشتمل نظام کا حصہ تھا۔ بلیک ہول کی زبردست کششِ ثقل نے اس نظام کو توڑ دیا، جس کے بعد یہ ستارہ انتہائی قریبی مدار میں رہ گیا۔

سائنس دانوں کی نظریں اب 2031 پر ہیں، جب ایس 301 ایک مرتبہ پھر بلیک ہول کے قریب ترین مقام سے گزرے گا۔ اس دوران حاصل ہونے والے مشاہدات سائنس دانوں کو بلیک ہول کی گردش اور شدید کششِ ثقل کے اثرات کو سمجھنے میں مزید مدد دے سکتے ہیں۔

editor

Related Articles