تاجروں کے لیے حکومت کی متعارف کردہ ایک فیصد فکسڈ ٹیکس اسکیم کو ابتدائی مرحلے میں سست روی کا سامنا ہے۔
تقریباً 9 ہزار 800 دکانداروں نے ریٹرن تیار کرلیے ہیں، تاہم نئے رجسٹرڈ تاجروں میں سے صرف تین نے اب تک ریٹرن جمع کرائے ہیں۔
50 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف
حکومت نے رواں مالی سال فکسڈ ٹیکس اسکیم کے تحت تاجروں سے 50 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جمعہ تک اسکیم کے تحت صرف 3 کروڑ 25 لاکھ روپے ٹیکس وصول ہوسکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سوشل میڈیا سے کمانے والوں کیلئے ایف بی آر کیجانب سے ٹیکس کا خصوصی طریقہ متعارف
وزارت خزانہ کے مطابق مجموعی طور پر 428 دکانداروں نے ریٹرن جمع کرائے ہیں۔ ان میں نئے ٹیکس دہندگان کی تعداد صرف تین ہے جس سے اسکیم کے ابتدائی مرحلے میں تاجروں کی جانب سے کم ردعمل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ہزاروں ریٹرن تیار، جمع نہیں ہوئے
حکام کے مطابق ایک ہزار 929 نئے تاجروں نے پہلی مرتبہ ٹیکس نظام میں رجسٹریشن کرائی ہے۔ ان میں سے 57 افراد نے ریٹرن تیار کیے ہیں تاہم انہیں ابھی ایف بی آر میں جمع نہیں کرایا گیا۔
مجموعی صورتحال کے مطابق تقریباً 9 ہزار 806 دکانداروں نے اپنے ریٹرن تیار کرلیے ہیں۔ حکام کو توقع ہے کہ یہ دکاندار 30 ستمبر تک اپنے ریٹرن جمع کرا دیں گے۔
تاجروں کو تکنیکی مشکلات کا سامنا
وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے فکسڈ ٹیکس اسکیم پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔ اجلاس کے دوران تاجروں کے نمائندوں نے آن لائن ریٹرن فائل کرنے میں پیش آنے والی تکنیکی مشکلات سے آگاہ کیا۔
بلال اظہر کیانی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ دکانداروں اور ٹیکس وکلا کی جانب سے سامنے آنے والے تکنیکی مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔
انہوں نے ریٹرن جمع کرانے والے دکانداروں کو ایف بی آر پلیٹس جلد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اسکیم کے تحت کیا سہولت دی گئی؟
وزیر مملکت کے مطابق فکسڈ ٹیکس اسکیم تاجروں کے لیے خصوصی سہولت کے طور پر متعارف کرائی گئی ہے۔
اسکیم کے تحت دکانداروں کو آڈٹ اور ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ڈیوائسز کی تنصیب سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
حکومت نے اسکیم میں شامل تاجروں کے ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔
حکومت کو توقع ہے کہ اس طریقہ کار سے تاجروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا آسان ہوگا اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوگا۔
تنخواہ دار طبقے سے تقابل
دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کی جانب سے تاجروں کو دی جانے والی ٹیکس مراعات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال تنخواہ دار طبقے سے تقریباً 630 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔
تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا طویل عرصے سے حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پاور ڈویژن نے سولر پاور پر فکسڈ ٹیکس لگانے کی خبروں کی تردید


