معاہدے کے تحت بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر واقع امریکی سفارت خانے کے سفارتی معاونتی مرکز کی انتظامی ذمہ داریاں عراقی حکومت کو منتقل کی جائیں گی۔
غیر ملکی فوجی مشن کے خاتمے کی تیاری
عراقی وزارت خارجہ کے مطابق سفارتی مرکز کی انتظامی منتقلی ان اقدامات کا حصہ ہے جن کا مقصد امریکا کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے سے متعلق انتظامی کارروائیاں مکمل کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عراق میں غیر ملکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے حوالے سے 30 ستمبر کی حتمی مدت مقرر کی گئی ہے۔
عراقی حکومت اس تاریخ تک متعلقہ کارروائیاں مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تعلقات کے نئے مرحلے کی امید
عراقی نائب وزیر خارجہ محمد حسین بحر العلوم نے کہا کہ یہ اقدام عراق اور امریکا کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں منتقل کرنے کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں اقتصادی، ترقیاتی اور توانائی کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔
عراقی مؤقف کے مطابق فوجی موجودگی کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو سکیورٹی تعاون کے بجائے دیگر شعبوں میں شراکت داری کے ذریعے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
یکم اکتوبر سے نئے دور کا اعلان
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے اور اس سے وابستہ فوجیوں کے انخلا کی حتمی تاریخ 30 ستمبر مقرر ہے۔
انہوں نے کہا کہ یکم اکتوبر عراق کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر ملک غیر ملکی فوجی موجودگی سے آزاد ہوگا اور اپنی سرزمین پر مکمل قومی خودمختاری استعمال کرے گا۔
عراقی حکومت کی جانب سے پیش رفت کو ملک کی خودمختاری کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب بغداد اور واشنگٹن کے درمیان اقتصادی، ترقیاتی اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔